27 اپریل 2013 - 19:30
ناوابستہ تحریک کےفعال کردار پرتاکید

ناوابستہ تحریک کی تجویز اور اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی منظوری کےبعد ایٹمی ترک اسلحہ کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا سربراہی اجلاس ستمبر میں نیویارک میں ہوگا ۔

ابنا: اقوام متحدہ میں ایران کے نمائندے محمدخزاعی نے ناوابستہ تحریک کےسربراہ کی حیثیت سے سنیچر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کےسربراہ ووک جرمیچ سے ملاقات میں امید ظاہر کی کہ اقوام متحدہ کےتمام اراکین بالخصوص اس کا سکریٹریٹ سربراہی سطح کے اجلاس کےانعقاد کے لے پوری کوشش کرے گا۔اس اجلاس میں جو ناوابستہ تحریک کے رکن ممالک کےنمائندوں کی موجودگی میں منعقد ہوا، مصر ، ونزوئیلا ، انڈونیشیا، اور کیوبا نے حصہ لیااور اس میں ایران کےنمائندے نے اس ادارے کےسربراہ کی حیثیت سے اعلان کیا کہ وہ منظم طور پراس اہم عالمی اجلاس کاانعقاد کرتے رہیں گے۔دنیا بالخصوص مشرق وسطی کےعلاقے کو ہرطرح  کےایٹمی ہتھیار سے پاک کرنے کی ضرورت نے اس اجلاس کےانعقاد کی اہمیت دوچنداں کردی ہے لیکن اس اجلاس کےانعقاد کےلئے اب زیادہ وقت باقی نہيں رہا ہے۔اسلامی جمہوریہ ایران نے گذشتہ سال ناوابستہ تحریک کےسربراہی اجلاس کی میزبانی کی تھی ۔اجلاس کےاختتامی بیان میں ایٹمی ہتھیاروں کوجڑ سےختم کرنےکومنظوری دی گئی ۔ناوابستہ تحریک ، ایٹمی مسئلے سمیت عالمی سیاست اور فیصلوں میں آج ہمیشہ سے زیادہ اہم کردار ادا کرنے کی پوزیشن میں ہے  لیکن تعاون اور اس کی صلاحیتوں سے استفادہ کےلئے اقوام متحدہ کی سطح پر حمایت ویکجہتی کی ضرورت ہے۔بالخصوص اس وجہ سے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ایسا ادارہ  ہے جس میں ناوابستہ تحریک اپنے ایک سوبیس ارکین کےساتھ موجود ہے۔ایٹمی ترک اسلحہ کااجلاس ایسے وقت میں ہونے جارہا ہے جب مشرق وسطی کاعلاقہ اہم تبدیلیوں کامرکز بنا ہوا ہے اور عالمی سطح پربھی عالمی طاقتوں کی جانب سے دوہرا معیار پوری طرح ایٹمی ترک اسلحہ پرعمل درآمد میں روکاوٹ بنا ہوا ہے۔ترک اسلحہ کا مسئلہ برسوں سے عالمی برادری کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے لیکن اس مقصد کےعملی جامہ پہننے میں متعدد روکاوٹیں ہيں۔یورپ وامریکہ میں ہزاروں ایٹمی وارہیڈز کی موجودگی اور امریکہ ، برطانیہ اور فرانس کی مدد سے مشرق وسطی میں تنہاصیہونی حکومت کا ایٹمی ہتھیاروں سے مسلح ہونا ایک بڑی مشکل میں تبدیل ہوچکا ہے۔لیکن عالمی طاقتیں نہ صرف ترک اسلحہ کی سمت حرکت نہيں کررہی ہيں بلکہ ترک اسلحہ کے عمل کو کمزور کررہی ہيں اور این پی ٹی کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا رہی ہیں۔ان حالات میں یقینا ناوابستہ تحریک کو بین الاقوامی سطح پر چیلنجوں کا سامنا ہے لیکن اسے بھی عالمی طاقتوں کےمقابلے میں اپنی طاقت کا مظاہرہ کرناچاہئے۔ناوابستہ تحریک کے سربراہ کی حیثیت سے اسلامی جمہوریہ ایران کاخیال ہے کہ یہ تحریک عالمی سطح پر اپنا فعال کردار ادا کرسکتی ہے۔اس سلسلے میں ایٹمی ہتھیاروں کو نابود کرنے کی کوشش ، ناوابستہ تحریک کے اراکین کےدرمیان ہمفکری کا اہم باب شمار ہوتا ہے۔

.......

/169