26 اپریل 2013 - 19:30
عراق میں اشتغال انگیزی ملکی اور غیر ملکی عناصر کی مشترکہ سازش

عراقي حمکران اتحاد کي انفارميشن کونسل نے ملک کے شمالي علاقوں ميں رونما ہونے والے حاليہ واقعات کو ملکي اور غير ملکي عناصر کي مشترکہ سازش قرار ديا ہے۔

ابنا: عراقي حمکران اتحاد کي  انفارميشن کونسل نے ملک کے شمالي علاقوں ميں رونما ہونے والے حاليہ واقعات کو ملکي اور غير ملکي عناصر کي مشترکہ سازش قرار ديا ہے۔حکومت قانون نامي حکمراں دھڑے  کي انفارميشن کونسل کے رکن عمار الحمد نے اپنے ايک انٹرويو ميں کہا ہے کہ اشتعال انگيز تقريروں کے ذريعے ملک کے بعض صوبوں ميں ہونے والے فتنہ انگيز اقدامات عوام کو مسلح افواج سے لڑانے کي سازش ہيں۔انہوں نے کہا کہ يہ عراق کے خلاف  اندروني اوربيروني دشمنوں کي مشترکہ سازش سے جس کا مقصد ملک ميں بدامني کو ہوا دينا ہے۔عراق کے حمکراں اتحاد کي انفارميشن کونسل کے رکن کا کہنا تھا کہ بعض ملکي اور غير ملکي دھڑے شام کے بحران کو عراق تک پھيلانے کے لئے الحويجہ ميں بحران پيدا کر رہے ہيں۔واضح رہے کہ شمالي عراق کے علاقے الحويبہ ميں منگل سے روز سے شروع ہونے والي جھڑپوں ميں اب تک ڈھائي سو افراد ہلاک اور زخمي ہوچکے ہيں۔مرنے والوں ميں انيس سيکورٹي اہلکار ہيں جبکہ باقي کا تعلق القاعدہ  اور کالعدم بعث پارٹي کے مسلح عناصرسے ہے۔عراق کے وزيراعظم نوري المالکي نے الحويجہ کے واقعات کي تحقيقات کے لئے مشترکہ کميٹي کا حکم ديا ہے۔ بيروني قوتوں کو خبردار کيا ہے کہ اگر فتنے کي آگ انہوں نے عراق ميں بھڑکانے کي کوشش کي توان کا دامن بھي نہيں بچ سکے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲