اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق، لبنان کے اخبار الاخبار نے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی عرب نے جولانی کے حالیہ دورۂ ریاض کے دوران شامی فورسز یمن بھیجنے کی درخواست کی۔ جولانی نے اس دورے میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، وزیر دفاع خالد بن سلمان اور وزیر خارجہ فیصل بن فرحان سے ملاقاتیں کی تھیں۔
رائٹرز اور امریکی ویب سائٹ آکسیوس کی رپورٹس کے مطابق، جولانی حکومت کے حکام سعودی درخواست اور ممکنہ تعاون کی نوعیت کا جائزہ لے رہے ہیں۔ آکسیوس نے تین امریکی حکام کے حوالے سے بتایا کہ ان مذاکرات کا مقصد یمن میں سعودی عرب کے اتحادی جنگجوؤں کی مدد کرنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، سعودی اور شامی حکام نے امریکی حکومت کو بھی ان مذاکرات سے آگاہ کیا ہے۔ آکسیوس کا کہنا ہے کہ امریکی حکام کو اصولی طور پر اس اقدام پر اعتراض نہیں، کیونکہ اس سے واشنگٹن کے دو اتحادیوں کے تعلقات مضبوط ہوسکتے ہیں اور یمن میں امریکی فوج کی براہِ راست شمولیت کے بغیر سعودی کارروائیوں میں مدد مل سکتی ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) بھی شامی جنگجوؤں کی ممکنہ تعیناتی کے طریقۂ کار سے متعلق مشاورت میں شامل رہی ہے۔ تاہم، بعض امریکی حکام کو خدشہ ہے کہ اس اقدام سے یمن کی جنگ میں فرقہ وارانہ پہلو مزید شدت اختیار کرسکتا ہے۔
آکسیوس نے مذاکرات سے واقف ایک ذریعے کے حوالے سے شامی جنگجوؤں کی ممکنہ تعداد 10 ہزار سے 20 ہزار کے درمیان بتائی ہے۔ رپورٹ میں جولانی حکومت کی فوج کے ڈویژن 90 اور ڈویژن 84 کی ممکنہ شمولیت کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ذریعے کے مطابق، ڈویژن 84 میں ہزاروں ایسے غیر ملکی جنگجو موجود ہیں جو شام کی جنگ کے دوران وہاں پہنچے تھے۔
سعودی حکام نے ان اطلاعات کی باضابطہ تصدیق یا تردید نہیں کی۔ دوسری جانب، جولانی حکومت کی وزارت اطلاعات کے شعبۂ خارجہ ابلاغ نے شام کے یمن کی جنگ میں شامل ہونے سے متعلق خبروں کو مسترد کیا اور کہا کہ حکومت کی ترجیح شام کی تعمیرِ نو ہے۔ تاہم، بیان میں دوسرے ممالک کے ساتھ سرکاری اور دوطرفہ تعلقات کے تحت فوجی تعاون کے امکان کو مکمل طور پر رد نہیں کیا گیا۔
یہ درخواست ایسے وقت سامنے آئی ہے جب شام کو شدید معاشی دباؤ کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب اور قطر کی جانب سے پہلے فراہم کی جانے والی مالی امداد کے ایک بڑے حصے میں تعطل کے باعث تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی ہے۔ جولانی حکومت کی وزارت دفاع، جو سابق شامی فوج کی تحلیل کے بعد قائم کی گئی، بھی ان مشکلات سے متاثر ہے۔
اس کے ساتھ حکومت مختلف مسلح گروہوں کو الگ الگ ڈھانچوں سے نکال کر وزارت دفاع میں ضم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم بعض گروہوں، خصوصاً غیر ملکی جنگجوؤں کی جانب سے اس عمل کی مزاحمت کی اطلاعات ہیں۔
تجزیے کے مطابق، سعودی درخواست قبول کرنے سے جولانی حکومت کو کچھ مسلح گروہوں کو شام سے باہر تعینات کرنے اور ملک کے اندر ان سے متعلق سکیورٹی و سیاسی دباؤ کم کرنے کا موقع مل سکتا ہے۔ تاہم، جنگجوؤں کو بیرونِ ملک منتقل کرنا لازماً اس مسئلے کا حل نہیں ہوگا اور اس سے حکومت کے لیے نئے سکیورٹی چیلنجز پیدا ہوسکتے ہیں۔
رپورٹ میں یہ امکان بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ دمشق براہِ راست جنگ میں شامل ہونے کے بجائے کسی درمیانی راستے کی تلاش کرے، جس کے ذریعے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات اور ممکنہ اقتصادی فوائد برقرار رہیں، لیکن شامی حکومت ایک نئی طویل جنگ میں براہِ راست نہ الجھے۔
اس مقصد کے لیے سیاسی حمایت یا سرکاری فوجی ڈھانچے سے باہر جنگجوؤں کی تعیناتی جیسے امکانات کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم یہ امکانات رپورٹ میں زیرِ بحث تجزیے ہیں، کسی حتمی فیصلے کی تصدیق نہیں۔
رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب اور اس کے اتحادی برسوں سے جاری یمن کی جنگ میں نمایاں مشکلات اور نقصانات کا سامنا کرتے رہے ہیں۔ ایسے میں اگر شامی جنگجوؤں کی تعیناتی عمل میں آتی ہے تو اس کے اثرات محض محدود فوجی تعاون تک رہنے کی ضمانت نہیں، جبکہ اس تنازع سے نکلنا جولانی حکومت کے لیے بھی مشکل ہوسکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ