ابنا: بوسٹن مراتھن دھماکوں میں ملوث ہلاک اور گرفتار ہونے والے چیچن نژاد نوجوانوں کے والد انظر سارنائیف کا اصرار ہے کہ ان کے بیٹے بے گناہ ہیں، بوسٹن دھماکے ایف بی آئی کی سازش ہے۔ اپنے انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ میرے بیٹے دھماکے نہیں کرسکتے، انہوں نے مستقبل میں روس واپس آکر ملازمت کرنے کا سوچا ہوا تھا۔
مراتھن دھماکوں میں ملوث چیچن نژاد نوجوان 19سالہ جوہر سارنائیف پر بڑی تباہی کے ہتھیار استعمال کرنے کے الزام میں فرد جرم عائدکردیا گیا۔ اگر ان پر یہ الزام ثابت ہوگیا توسزائے موت سنائی جاسکتی ہے۔ اس سلسلے میں پہلی سماعت 30مئی کو ہوگی تاہم سارنائیف عدالت میں پیش ہوں گے یا نہیں، اس بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
بوسٹن کے میئر تھامس مینینو نے کہا ہے کہ بوسٹن حملہ دونوں بھائیوں کا انفرادی فعل تھا، انہوں نے کسی بیرونی گروپ سے مدد نہیں لی، واقعے کا ماسٹر مائنڈ بڑا بھائی تھا جس نے چھوٹے بھائی کا ذہن بناکر اسے بھی ساتھ ملالیا۔
بوسٹن پولیس کمشنرکے مطابق میراتھن دھماکوں کے ملزم سے اب تک تفتیش کا آغاز نہیں کیا جاسکا ہے۔ پولیس کے دعوے کے مطابق بوسٹن دھماکوں کا گرفتار ملزم خودکشی کرنا چاہتا تھا۔ ملزم نے اپنے منہ میں پستول رکھ کر گولی چلادی تھی جس سے اس کے حلق کو نقصان پہنچا ہے۔
.......
/169