ابنا: امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کراچی ڈویژن جامعہ اردو یونٹ کے زیر اہتمام سالانہ یوم مصطفی (ص) منعقد کیا گیا۔ اس موقع پر طلبہ اور طالبات کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔مہمانوں میں مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی کے مرکزی محرک علامہ مرزا یوسف حسین سمیت علامہ دیدار علی جلبانی اور خانم ثروت عسکری شامل تھے۔
ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سکرٹری جنرل نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں معلم کے احکامات لاگو ہوتے ہیں اور انسانیت کی معلم نبی کریم (ص) کی ذات بابرکت ہے ۔ یہ مقدس نام لوگو ں کو آپس میں جوڑنے کے لئے ہے نہ کہ توڑنے کے لئے، تعلیمی اداروں کے منتظمین کی ذمہ داری ہے کہ جامعات میں موجود طلباء میں روح محمدی (ص) کو پیدا کرنے لئے تمام اسباب مہیا کریں۔ نبی کریم (ص) کی ذات اقدس کسی خاص مسلک و مذہب کی ملکیت نہیں بلکہ آپ (ص) سردار انسانیت ہیں، اگر یہ کام منتظمین جامعات نہ کریں تو طلبہ کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ تعلیمات محمدی (ص) کا احیاء کریں پھر ان طلباء کی راہ میں روڑے اٹکانا یونیورسٹی انتظامیہ کے لئے شرمناک عمل ہے۔
رسول اکرم (ص) کی سیرت مبارکہ نہ فقط مسلمانوں بلکہ غیر مسلموں کے لئے بھی راہ نجات ہے، امّت محمدی (ص) کی ذمہ داری ہے کہ نبی کریم کی سنّت پر مخلصانہ طور پر عمل کریں اور خدا اور بندوں کے درمیان تعلق کو مزید طاقت بخشیں۔ علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ انبیاء کی بعثت کا مقصد یہ ہے کہ وہ انسان کے اندر پائی جانے والی خوش صفات کو معاشرے کے سامنے اجاگر کریں اور انسان کو معاشرے میں ایک عالی مرتبے پر فائز کریں، علم انسان کی روح کا حصہ ہے جو کہ انسان کو عالم غیب سے جوڑ دیتا ہے، اگر حصول علم کے بعد انسان کے شعور و آگاہی میں اضافہ نظر نہ آئے تو وہ علم بےسود و بیکار ہے۔ علم یعنی معرفت، علم یعنی انسان کا خدا سے قرب، علم یعنی خیر و شر میں تمیز، جو تعلیم و تربیت انسان کو انسان بنانے میں معاون و مددگار نہ ہو وہ علم بیکار ہے، ورنہ انسان نما تو یزید بھی تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
ایم ڈبلیو ایم کے مرکزی ڈپٹی سکرٹری جنرل نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں معلم کے احکامات لاگو ہوتے ہیں اور انسانیت کی معلم نبی کریم (ص) کی ذات بابرکت ہے ۔ یہ مقدس نام لوگو ں کو آپس میں جوڑنے کے لئے ہے نہ کہ توڑنے کے لئے، تعلیمی اداروں کے منتظمین کی ذمہ داری ہے کہ جامعات میں موجود طلباء میں روح محمدی (ص) کو پیدا کرنے لئے تمام اسباب مہیا کریں۔ نبی کریم (ص) کی ذات اقدس کسی خاص مسلک و مذہب کی ملکیت نہیں بلکہ آپ (ص) سردار انسانیت ہیں، اگر یہ کام منتظمین جامعات نہ کریں تو طلبہ کی ذمہ داری بن جاتی ہے کہ تعلیمات محمدی (ص) کا احیاء کریں پھر ان طلباء کی راہ میں روڑے اٹکانا یونیورسٹی انتظامیہ کے لئے شرمناک عمل ہے۔
رسول اکرم (ص) کی سیرت مبارکہ نہ فقط مسلمانوں بلکہ غیر مسلموں کے لئے بھی راہ نجات ہے، امّت محمدی (ص) کی ذمہ داری ہے کہ نبی کریم کی سنّت پر مخلصانہ طور پر عمل کریں اور خدا اور بندوں کے درمیان تعلق کو مزید طاقت بخشیں۔ علامہ امین شہیدی کا کہنا تھا کہ انبیاء کی بعثت کا مقصد یہ ہے کہ وہ انسان کے اندر پائی جانے والی خوش صفات کو معاشرے کے سامنے اجاگر کریں اور انسان کو معاشرے میں ایک عالی مرتبے پر فائز کریں، علم انسان کی روح کا حصہ ہے جو کہ انسان کو عالم غیب سے جوڑ دیتا ہے، اگر حصول علم کے بعد انسان کے شعور و آگاہی میں اضافہ نظر نہ آئے تو وہ علم بےسود و بیکار ہے۔ علم یعنی معرفت، علم یعنی انسان کا خدا سے قرب، علم یعنی خیر و شر میں تمیز، جو تعلیم و تربیت انسان کو انسان بنانے میں معاون و مددگار نہ ہو وہ علم بیکار ہے، ورنہ انسان نما تو یزید بھی تھا۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲