16 اپریل 2013 - 19:30
امريکا ميں دہشتگردي اور سيکورٹي

امريکا ميں بوسٹن بم دھماکوں کے ايک دن بعد مقامي ميڈيا کا کہنا ہے کہ رياست ٹيکساس کے شہر ہيوسٹن ميں ايک اسکول ميں بم رکھے جانے کي افواہ کے بعد اسکول ميں افراتفري مچ گئي اور فورا اسکول کو طلباء سے خالي کراليا گيا -

ابنا: ہيوسٹن کے جنوب ميں واقع ويسٹبري کے ايک اسکول ميں بم رکھے جانے کي اطلاع کے بعد  اسکول کو مکمل طور خالي کرديا گيا –اسکول کي انتظاميہ نے بم رکھے جانے کي دھمکي ملنے کي تفصيلات نہيں بتائيں  کہ يہ دھمکي کس نے اور کيوں دي تھي- ليکن کچھ گھنٹوں کے بعد دوبارہ اسکولي بچوں کو کلاسوں ميں دوبارہ واپس آنے کے لئے کہہ ديا گيا –ايسي حالت ميں ہے کہ امريکا کے شہر بوسٹن ميں ميراتھن ريس کے دوران ہونےوالے بم دھماکوں کے بعد امريکا کے سبھي بڑے شہروں  کے  پبلک مقامات منجملہ ہوائي اڈوں پر سيکورٹي کے انتظامات مزيد سخت کرديئے گئے ہيں –رپورٹوں ميں بتايا گيا ہے کہ اس وقت بوسٹن شہر ميں پوليس اور سيکورٹي فورس کي نفري کافي زيادہ بڑھا دي گئي ہے اور شہر کے مختلف علاقوں خاص طور پر ميٹرو اسٹيشنوں پر پوليس کي نفري ميں بھاري اضافہ ہوا ہے جبکہ بوسٹن شہر کے ہوائي اڈے پر بھي سيکورٹي کے انتظامات پہلے سے کہيں زيادہ سخت کرديئے گئے ہيں –اس درميان يہ بھي خبر ہے کہ بوسٹن ہوائي اڈے پر ايک طيارہ ايک مشکوک چيز کو ديکھنے کے بعد کچھ دير کے لئے  ٹرمينل سے باہر نکل گيا - ادھر وائٹ ہاؤس کے بھي اطراف ميں سيکورٹي بڑھادي گئي ہے جبکہ وائٹ ہاؤس کے سامنے پنسلوينيا روڈ کو بند کرديا گيا ہے –

.....

/169