ابنا: کچھ رپورٹیں تو جنوبی صوبوں بوشہر اور سیستان وبلوچستان کے حالیہ زلزلوں سے متعلق ہیں۔ اس حوالے سے مختلف ذرائع ابلاغ نے بوشہر ایٹمی بجلی گھر کی سیفٹی کے بارے میں خاصہ زہر اگلا ہے۔ بعض ذرائع ابلاغ نے صدر مملکت ڈاکٹر احمدی نژاد کے دورہ افریقہ کے سہارے ایران کے ایٹمی پروگرام کے تعلق سے پراپنگینڈا کیا ہے اور یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی ہےکہ چونکہ نائجر یورینیم کے ذخائر سے مالا مال ملک ہے لھذا صدر احمدی نژاد کے دورہ نائجر کا ایک مقصد اس ملک سے یورینیم خریدنا ہے۔ واضح رہے صدر احمدی نژاد افریقہ کے تین ملکوں بنین، نائجر اور غنا کے دورے پر ہیں۔ یہاں ایک اہم سوال اٹھتا ہے وہ یہ کہ مغربی ممالک خاص طور سے امریکہ آخر کس وجہ سے ایرنا کے پرامن ایٹمی پروگرام کی ڈروانی تصویر بنا کر پیش کرتے ہیں اور اسکے خلاف پراپگينڈوں میں لگے رہتے ہیں؟ اس سوال کا جواب بڑا سہل ہے اور وہ یہ ہےکہ مغربی ممالک یہ چاہتے ہیں کہ ایرانی سائنس داں آسانی سے ایٹمی علم و دانش حاصل نہ کرپائيں اور اس ھدف تک پہنچتے پہنچتے خاصی تاخیر ہوجائے، دوسرے الفاظ میں مغرب یہ چاہتا ہےکہ وہ ایران کے راستے اس قدر رکاوٹیں ڈالے تا کہ آخرکار ایٹمی ٹکنالوجی کا حصول ایران کے لئے پیشرفت نہیں بلکہ خطرے میں تبدیل ہوجائے۔ تہران میں شریف یونیورسٹی آف ٹکنالوجی میں منعقدہ سمینار میں سامراج کی ان سازشوں کی وضاحت کی گئي تھی اور ایران کے پرامن ایٹمی پروگرم کے خلاف جاری منفی پراپگينڈوں کا ٹھوس جواب دیا گيا۔ اس سمینار سے خطاب میں ایران کے ایٹمی ادارے کے سربراہ فریدوں عباسی نے کہا کہ مغرب نے سیاسی اھداف کے تحت ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کی مخالفت جاری رکھی ہے اور اب وقت آن پہنچا ہے کہ ہم ایٹمی میدان میں اپنے ناتمام کاموں کو مکمل کریں تاکہ ملک کو صنعتی ترقی کی راہ پر لگاسکیں۔ قابل ذکرہے چھے برسوں قبل اپریل دوہزار سات میں نطنز ایٹمی سائٹ میں ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کی نگرانی میں نئی سنٹری فیوج مشینوں کے سیٹ لگائے گئے تھے، اس پروجیکٹ سے ایران نے بڑا سائنسی کارنامہ انجام دیا ۔ فریدون عباسی نے کہاکہ اس وقت نطنز ایٹمی سائٹ میں سنٹری فیوج مشینوں کے چھے کیسکیڈ ہیں جن میں ایک سو چونسٹھ سے ایک سو ستر تک سنٹری فیوج مشینیں لگي ہوئي ہیں جو بیس فیصد تک یورینیم کی افزودگي انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران لیزر ٹکنالوجی کے مراکز سے رابطہ کرکے لیزر ٹکنالوجی حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس طریقے سے ملک کی ضرورتوں کو پورا کرنے کی فکر میں ہے۔ ان کامیابیوں سے صاف ظاہر ہے کہ ملت ایران نے کس طرح سے مغرب کی پابندیوں کو بے اثر کرکے اپنے پیروں پر کھڑا ہونا سیکھ لیا ہے اور اپنے پرامن اھداف کی طرف بڑھ رہی ہے۔ مغرب کے دعووں کے برخلاف انکی پابندیاں خود ان کے لئے مہنگي پڑی ہیں۔ مغربی ممالک جو کئي برسوں سے ایران کو ایٹمی ٹکنالوجی سے محروم کرنے کی کوشش کررہے ہیں ان کا مقصد ایٹمی ٹکنالوجی پر اپنی اجارہ داری قائم رکھنا ہے۔ اس حقیقت کی طرف فریدون عباسی نے بھی اپنے خطاب میں اشارہ کیا ہے۔ امریکہ اور ا سکے پٹھو اتحادی ایران کی ایٹمی توانائیوں کو خطرہ قراردیتے ہیں اور پانچ جمع ایک گروپ نے اقوام متحدہ میں ایران کے خلاف کئي قراردادیں منظور کروائي ہیں جو سرے سے غیر قانونی ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف خود سرانہ پانبدیوں میں شدت لانا، سیاسی دباؤ، حملوں کی دھمکیاں یہانتک کہ ایٹمی سائنس دانوں کی ٹارگٹ کلنگ اور ایٹمی تنصیبات پر سائبر حملے ایسے اقدامات ہیں جن سے امریکہ کی سربراہی میں مغربی ممالک نے ایران کی ایٹمی سرگرمیاں روکنے کی کوشش کی ہے لیکن مغرب کی تمام تر دشمنیوں کے باوجود ایران کا پرامن ایٹمی پروگرام جاری ہے اور یہ ملت ایران کا ایک فخریہ کارنامہ ہے۔ یہ ایٹمی ٹکنالوجی میں ایران کی ترقی ہی ہے جس کے نتیجے میں ایران اس وقت ملک کو درکار پچانوے فیصد ریڈیو میڈیسن تیار کررہا ہے۔ سامراجی طاقتوں نے یہ سوچ لیا تھا کہ انہوں نے جدید ٹکنالوجیوں کو اپنے ناقابل تسخیر حصار میں لے رکھا ہے اور اس میں کوئي داخل نہیں ہوسکتا لیکن ایرانی ماہرین نے یہ ثابت کردیا کہ وہ ناممکن کو ممکن بنانے کی توانائي رکھتے ہیں اور آج تہران کے تحقیقاتی ری ایکٹر میں وہ ایٹمی ایندھن استعمال ہورہا ہے جسے ایرانی ماہرین ہی تیار کررہے ہیں۔
.....
/169