16 اپریل 2013 - 19:30
فلسطینی اتھارٹی اور غاصب اسرائیل

فلسطین کی نام نہاد خود مختار انتظامیہ کے بارے میں غاصب صہیونی ریاست کے حالیہ بیانات نے اس حکومت کے بارے میں اصل صورت حال کو مزید واضح کردیا ہے ۔

ابنا: غاصب صہیونی ریاست کے صدر نے فلسطین کی اتھارئی کو اسرائیل کے تحفظ کی ضمانت قرار دیا ہے ۔ صہیونی صدر شیمون پرز نے مزيد کہا ہے کہ حماس کو اس بات کی اجازت نہیں دی جائيگي کہ وہ غرب اردن کے علاقے کو اپنے زہر تسلط لے آئے ۔ صہیونی صدر نے فلسطینی اتھارٹي کے صدر محمود عباس سے کہا ہے کہ وہ مذاکرات سے پہلے اسرائيل کو باقاعدہ تسلیم کرنے کا اعلان کریں غاصبصہیونی ریاست کے صدر نے محمود عباس کی طرف سے فلسطینی مہاجرین کی واپسی کی مخالفت کرنے پر انکی   مخالفت   کی ہے اور کہا ہے کہ محمود عباس نے اسرائیل سے صلح کے راستے کو انتخاب کیا ہے۔فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس نے چند دن پہلے فلسطینی مہاجرین کی فلسطین واپسی کی مخالفت کرتے ہوئے یہاں تک کہا تھا کہ انکا   صفد کے علاقے سے ہے لیکن وہ وہاں واپس نہیں جائیں گے ۔ کہا جاتا ہے کہ محمود عباس کی حکومت کی مدد سے اسرائیل نے حماس کے کئی اہم رہنماؤں کو گرفتار کیا ہے۔صہیونی صدر کے بیانات سے بخوبی اندازہ ہوتا ہے کہ اسرائيل فلسطینی اتھارٹی کو فلسطینیوں کے اندر تفرقے اور انہیں نابود کرنے کے لئے استعمال کررہا ہے فلسطین کی اس نام نہاد خود مختار انتظامیہ کے ماضی کا اگر سرسری جائزہ بھی لیا جائے تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ  اس نے نہ صرف فلسطینی کاز کے لئے کچھ نہیں کہا بلکہ وہ فلسطینیوں کے حقوق کو غصب کرنے میں بھی اسرائيل کی ممد و معاون ثابت ہوئی ہے۔فلسطینیوں کی اکثریت محمود عباس اور اسکی حکومت کو پسندیدہ نظروں سے نہيں دیکھتی ہے ۔ محمود عباس کی طرف سے فلسطینی مہاجرین کی وطن واپسی کی مخالفت نیز غزہ پر ہونے والے صہیونی حملوں میں انکی خاموشی و غیرہ ایسے اقدامات میں جس سے بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ محمود عباس فلسطینی کاز کی بجائے خطے میں اسرائیلی ایجنڈے کو نافذ کرنے میں مشغول ہیں ۔بعض تجزيہ کاروں کا یہ کہنا ہے کہ فلسطین کی خود مختار انتظامیہ فلسطینیوں کے اندر   ففتھ کالم کا کردار ادا کررہی ہے اور محمود عباس اور انکی ٹیم اپنے ذاتی اہداف کے حصول کے لئے فلسطینیوں کے حقوق کا سودا کرنے پر تلے ہوئے ہیں ۔فلسطین کی خود مختار انتظامیہ کے اسی رویے کی وجہ سے فلسطینی مجاہدین اس انتظامیہ کو صہیونی ریاست کا جاسوس سمجھتے ہیں فلسطین کی خود مختار انتظامیہ کی جانب سے مذاکرات پر تاکید اور فلسطینی قیدیوں کی واپسی کی مخالفت اور صہیونی پالیسیوں کی حمایت اس بات کا باعث بن رہی ہے کہ وہ فلسطینیوں پر اپنے مظالم میں ہر روز اضافہ کررہے ہیں اور اب جبکہ صہیونی صدر نے اسرائيل کو سرکاری طور پر تسلیم کرنے کو مذاکرات کی شرط قرار دے دیا ہے تو فلسطینیوں کے اندر غم و غصے میں اضافہ ایک قدرتی امر ہے ۔ بہرحال صہیونی ریاست کی طرف سے فلسطین کی خود مختار انتظامیہ کی تعریف اور محمود عباس کی طرف سے صہیونی ریاست کی ستائش ایک ایسا عمل جس پر فوری توجہ اور اسکا تفصیل سے جائزہ لینے کی ضرورت ہے ۔

.....

/169