14 اپریل 2013 - 19:30
کبھی ہہاں مسجد ہوا کرتی تھی!+تصاویر

تحریک انقلاب بحرین شروع ہونے کے بعد آل خلیفہ کی طرف سے کئے گئے وحشیانہ جرائم ناقابل تردید ہیں دسیوں جوانوں، بچوں بوڑھوں اور عورتوں کا ناحق خون تو کیا ہی مگر مساجد اور قرآن پاک پر بھی انہیں رحم نہ آیا۔ ۳۸ مساجد کو شہید کر دیا اور نامعلوم قرآن کریم کے کتنے نسخوں کو نذر آتش کیا گیا۔

اہلبیت (ع) نیوز ایجنسی۔ ابنا۔ کوئی یہ تصور نہیں کر سکتا تھا کہ مسلمان اس قدر ایمان اور کردار کی منزل سے گر جائے گا اس کی نظر میں مسجد اور قرآن تک کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔ جس کتاب پر ایمان لا کر مسلمان کہلواتا ہے اسی کو نذر آتش کر کے اپنے ایمان کا سکہ منواتا ہے۔ جس مسجد میں نماز پڑھ کر نمازی کہلواتا ہے اسے زمین بوس کر کے اپنی مسلمانی پر فخر کرتا ہے۔  اسلام کی نظر میں مساجد کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے چاہے وہ شیعوں کی بنائی ہوئی ہو یا سنیوں کی سب مساجد کا ایک مرتبہ ہے سب پر برابر سے احکام شرع جاری ہوتے ہیں۔ قرآن اللہ کی کتاب ہے چاہے وہ شیعہ چھاپ خانے سے چھپے یا سنی۔ شیعوں کی مسجد میں رکھی ہوئی ہو یا سنیوں کی۔ مگر افسوس سے جب مسلمان کی آنکھوں پر تعصب کی پٹی بندھ جاتی ہے تو وہ نہ مسجد کو دیکھتا ہے نہ قرآن کو۔سرزمین بحرین میں دو سال سے کچھ ایسا ہی دکھائی دے رہا ہے۔ بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھنے والے آل خلیفہ کے کارندوں نے ۳۸ مساجد کو شہید  اور نامعلوم کتنے قرآن کریم کے نسخوں کو نذر آتش کیاہے۔

   آل خلیفہ کے کارندوں کی طرف سے شیعہ مساجد کو شہید کرنا عوام کے غم و غصہ کا باعث بنا کہ روز بروز عوامی مظاہروں کی کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا۔بحرین کی مظلوم عوام نے کچھ مساجد کی تعمیر نو کا سلسلہ شروع کیا مگر تکفیری دستوں نے دوبارہ انہیں زمین بوس کر دیا۔آخر کار بحرینیوں نے شہید شدہ مساجد کی جگہوں پر ٹینٹ لگا کر نماز جماعت ادا کرنا شروع کی۔ 

مسجد شیخ إبراهیم (العلویین) / علاقہ: الزنج

جسے آل خلیفہ نے شہید کر دیا

مسجد الوطیة (قدم المهدی) / علاقہ: الماحوزخراب کرنے سے پہلےخراب کرنے کے بعدمسجد العابد / علاقہ: سترهخراب کرنے سے پہلےخراب کرنے بعدمسجد امام الصادق(ع) / علاقہ: سلمابادخراب کرنے سے پہلےخراب کرنے کے بعدمسجد أم البنین علاقه: شهر حمدخراب کرنے سے پہلےخراب کرنے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲