اہلبیت (ع) نیوز ایجنسی۔ ابنا۔ کوئی یہ تصور نہیں کر سکتا تھا کہ مسلمان اس قدر ایمان اور کردار کی منزل سے گر جائے گا اس کی نظر میں مسجد اور قرآن تک کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔ جس کتاب پر ایمان لا کر مسلمان کہلواتا ہے اسی کو نذر آتش کر کے اپنے ایمان کا سکہ منواتا ہے۔ جس مسجد میں نماز پڑھ کر نمازی کہلواتا ہے اسے زمین بوس کر کے اپنی مسلمانی پر فخر کرتا ہے۔ اسلام کی نظر میں مساجد کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے چاہے وہ شیعوں کی بنائی ہوئی ہو یا سنیوں کی سب مساجد کا ایک مرتبہ ہے سب پر برابر سے احکام شرع جاری ہوتے ہیں۔ قرآن اللہ کی کتاب ہے چاہے وہ شیعہ چھاپ خانے سے چھپے یا سنی۔ شیعوں کی مسجد میں رکھی ہوئی ہو یا سنیوں کی۔ مگر افسوس سے جب مسلمان کی آنکھوں پر تعصب کی پٹی بندھ جاتی ہے تو وہ نہ مسجد کو دیکھتا ہے نہ قرآن کو۔سرزمین بحرین میں دو سال سے کچھ ایسا ہی دکھائی دے رہا ہے۔ بظاہر اسلام کا لبادہ اوڑھنے والے آل خلیفہ کے کارندوں نے ۳۸ مساجد کو شہید اور نامعلوم کتنے قرآن کریم کے نسخوں کو نذر آتش کیاہے۔

بحرین کی مظلوم عوام نے کچھ مساجد کی تعمیر نو کا سلسلہ شروع کیا مگر تکفیری دستوں نے دوبارہ انہیں زمین بوس کر دیا۔آخر کار بحرینیوں نے شہید شدہ مساجد کی جگہوں پر ٹینٹ لگا کر نماز جماعت ادا کرنا شروع کی۔ 


مسجد شیخ إبراهیم (العلویین) / علاقہ: الزنج
جسے آل خلیفہ نے شہید کر دیا


خراب کرنے سے پہلے
خراب کرنے کے بعدمسجد العابد / علاقہ: ستره
خراب کرنے سے پہلے
خراب کرنے بعدمسجد امام الصادق(ع) / علاقہ: سلماباد
خراب کرنے سے پہلے
خراب کرنے کے بعدمسجد أم البنین علاقه: شهر حمد
خراب کرنے سے پہلے
خراب کرنے کے بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲