ابنا: اطلاعات کے مطابق سرجانی ٹاوٴن میں دہشت گردوں اور سی آئی ڈی کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا جس میں بھاری ہتھیار استعمال کیے گئے۔فائرنگ کے تبادلے کے دوران2 پولیس اہل کار زخمی ہوگئے جبکہ ایک دہشت گردمارا گیا۔ دہشت گردوں سے دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی بھی قبضے میں لے لی گئی۔ جھڑپ میں پولیس کی کئی گاڑیاں بھی تباہ ہوئی ہیں۔ پلیس حکام کے مطابق دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی عباسی شہید اسپتال پر حملے میں استعمال کی جانی تھی۔
پلیس حکام کے دعوے کے مطابق سرجانی ٹاوٴن آپریشن میں ملزمان کی فائرنگ سے گزشتہ روز گرفتار سانحہ عباس ٹاوٴن دھماکے کا ماسٹر مائنڈ گل اسلم ہلاک ہوگیا۔پولیس ذرائع کے مطابق سی آئی ڈی پولیس نے گذشتہ روز منگھو پیر سلطان آباد سے 4دہشت گردوں کو گرفتار کیا تھا۔ ان میں کالعدم تحریک طالبان ولی الرحمان گروپ کے عسکری ونگ کا کمانڈر گل اسلم بھی شامل تھا۔
تفتیش میں ملزموں سے ملنے والی اطلاعات پر رات گئے ایک سنسان علاقے میں چھاپہ مارا گیا۔ پولیس دہشت گردوں کے ٹھکانے کی نشاندہی کے لئے گل اسلم کو بھی ساتھ لائی۔ دہشت گردوں نے پولیس پر فائرنگ کردی جس میں بھاری اسلحہ استعمال کیا گیا۔ پولیس نے مزید نفری طلب کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کا تبادلہ تقریباً پون گھنٹے تک جاری رہا جس کے دوران سی آئی ڈی کا ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر، ایک کانسٹیبل اور دہشت گردوں کے ٹھکانے کی نشاندہی کرنے والا ملزم گل اسلم زخمی ہوگئے۔ تینوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں گل اسلم نے دم توڑ دیا۔
پولیس نے جھاڑیوں کے درمیان کھڑی دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی بھی تحویل میں لے لی۔ گاڑی میں دو پریشر کْکر بم ، بارود سے بھرے دو واٹر کولر ، اور بارود سے بھرا ایک بکس تھا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے عملے نے دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنادیا۔ اس موقع پر سی آئی ڈی پولیس نے ایک دہشت گرد کو بھی گرفتار کرکے اسلحہ برآمد کرلیا ہے۔
گورنر سندھ نے کامیاب کارروائی کرنے پر سی آئی ڈی ٹیم کے لئے ٢٠ لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲
پلیس حکام کے دعوے کے مطابق سرجانی ٹاوٴن آپریشن میں ملزمان کی فائرنگ سے گزشتہ روز گرفتار سانحہ عباس ٹاوٴن دھماکے کا ماسٹر مائنڈ گل اسلم ہلاک ہوگیا۔پولیس ذرائع کے مطابق سی آئی ڈی پولیس نے گذشتہ روز منگھو پیر سلطان آباد سے 4دہشت گردوں کو گرفتار کیا تھا۔ ان میں کالعدم تحریک طالبان ولی الرحمان گروپ کے عسکری ونگ کا کمانڈر گل اسلم بھی شامل تھا۔
تفتیش میں ملزموں سے ملنے والی اطلاعات پر رات گئے ایک سنسان علاقے میں چھاپہ مارا گیا۔ پولیس دہشت گردوں کے ٹھکانے کی نشاندہی کے لئے گل اسلم کو بھی ساتھ لائی۔ دہشت گردوں نے پولیس پر فائرنگ کردی جس میں بھاری اسلحہ استعمال کیا گیا۔ پولیس نے مزید نفری طلب کرتے ہوئے جوابی کارروائی کی۔ فائرنگ کا تبادلہ تقریباً پون گھنٹے تک جاری رہا جس کے دوران سی آئی ڈی کا ایک اسسٹنٹ سب انسپکٹر، ایک کانسٹیبل اور دہشت گردوں کے ٹھکانے کی نشاندہی کرنے والا ملزم گل اسلم زخمی ہوگئے۔ تینوں کو اسپتال منتقل کیا گیا جہاں گل اسلم نے دم توڑ دیا۔
پولیس نے جھاڑیوں کے درمیان کھڑی دھماکا خیز مواد سے بھری گاڑی بھی تحویل میں لے لی۔ گاڑی میں دو پریشر کْکر بم ، بارود سے بھرے دو واٹر کولر ، اور بارود سے بھرا ایک بکس تھا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ کے عملے نے دھماکا خیز مواد کو ناکارہ بنادیا۔ اس موقع پر سی آئی ڈی پولیس نے ایک دہشت گرد کو بھی گرفتار کرکے اسلحہ برآمد کرلیا ہے۔
گورنر سندھ نے کامیاب کارروائی کرنے پر سی آئی ڈی ٹیم کے لئے ٢٠ لاکھ روپے کے انعام کا اعلان کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲