8 اپریل 2013 - 19:30
ترکی میں حکومت مخالف مظاہرے

ترکی میں کودتا میں شرکت کے الزام میں بعض فوجیوں پر مقدمہ چلائے جانے کے خلاف حکومت مخالفین نے ایک بار پھر مظاہرہ کیا ہے ۔ مظاہرین اور پولیس میں جھڑپ ہو گئی جس کے نتیجہ میں بعض افراد زخمی بھی ہو گئے۔

ابنا: ترکی میں کودتا میں شرکت کے الزام میں بعض فوجیوں پر مقدمہ چلائے جانے کے خلاف حکومت مخالفین نے ایک بار پھر مظاہرہ کیا ہے ۔ مظاہرین اور پولیس میں جھڑپ  ہو گئی جس کے نتیجہ میں بعض افراد زخمی بھی ہو گئے۔ کہاجاتا ہے کہ اس جھڑپ  کی وجہ سے تقریبا دوسو پچھتر فوجیوں کے خلاف عدالت کی آخری سماعت کی کاروائي رک گئی ۔ ان فوجیوں کے خلاف چار سال سے قبل مقدمہ چل رہا  ہے جن پر غیر قانونی ارگنہ کن گروہ سے رابطہ رکھنے انصاف اور  ترقی پارٹی  کی سربراہی  میں قائم حکومت کے خلاف بغاوت میں شریک ہونے کا الزام ہے ۔ان برسوں کے درمیان ارگنہ کن گروہ اور اس گروہ سے  رابطہ رکھنے  والی سیاسی ، فوجی حتی علمی شخصیات اور ذرائع ابلاغ کا نام  ترکی کے عام لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے ۔بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ترکی کی انتہا پسند قومی اور خفیہ تنظیم ارگنہ کن کے اراکین کمال اتاترک کی پالیسیوں سے متائثر ہیں اور ان لوگوں کا ترکی کی سیکورٹی فورس اور  فوج سے رابطہ ہے ۔ یہ لوگ ارگنہ  کن تنظیم کو ایک دہشت گرد گروہ جانتے ہیں اور انھیں علیحدگی پسند اوراوراسیاتنظیم جیسے القاب سے یاد کرتے ہیں ۔ بعض دیگر افراد کا کہنا ہے کہ ارگنہ کن تنظیم برسوں سے  ترکی میں موجود تھی  جس کا راز سو سورلوک واقعہ  کے  بعد فاش ہوا، ان لوگو ں کا کہنا ہے  کہ ان دونوں تنظیموں کے صرف نام میں  فرق ہے ماہیت کے لحاظ سے دونوں میں کوئی فرق نہیں  ہے ۔ ترکی کے بعض  لوگوں کا کہنا ہے  کہ اس طرح  کی بڑی تنظیموں کے وجود  میں آنے  یا تشکیل پانے کے لئے  ایک  بڑے بجٹ کی  ضرورت ہے حتی بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ ارگنہ کن کی اصل پشت پناہی اور حمایت پینٹگان اور سی آئی اے  کرتی ہے اور بعض افراد  کہتے ہیں کہ یہ تنظیم روسی پالیسیوں سے متائثر ہے ۔ اس رو سے کہنا چاہئیے کہ ارگنہ کن تنظیم کی تمام حقیقی سرگرمیوں کا انکشاف انڈر گراؤنڈ ایک خفیہ تنظم کے لحاظ سے بہت سخت اور  دشوار ہے ، اس لئے کہ اکثر لوگ دوہزار تین میں حکومت کے خلاف بغاوت میں شرکت کرنے والے فوجیوں پر مقدمہ کے طولانی اور حساس  تحقیق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نیز ارگنہ کن تنظیم کے ساتھ ان کے تعلقات کو صدی کی فائل کا لقب دیتے ہیں ۔ اس سلسلے میں جو چیز اہم ہے وہ یہ  ہے کہ پائیں بازو کی جمہوری خلق پارٹی اور دائیں بازو کی قومی تحریک پارٹی دونوں مقدمہ کے جاری رہنے  کی مخالف ہیں۔ شاید پہلے مرحلے میں یہ مخالفتیں اس لئے توجیہ کے قابل ہیں کہ فوجی ملزمان خود کو سیکورلر ازم اور قومی حاکمیت اور  قومی مفادات  کے  محافظ جانتے ہیں ،بائیں بازو  اوردائیں بازوکی دونوں پارٹیاں خاص طور پر ان ہی چیزوں پر  تاکید کرتی ہیں ۔یہ فوجی انصاف اورترقی پارٹی کی مخالفت کی وجہ کو یہ قرار دیتے ہیں کہ اس پارٹی  نے ترکی کو مغرب کے مفادات کے حوالہ  کردیا ہے یا مغربی مفادات کے حوالہ کردے گی ۔ ان لوگوں کی نظر میں انصاف اور ترقی پارٹی کے سربراہ اور ترکی کے وزیرا‏عظم اردوغان گذشتہ ایک عشرے میں اقتدار پسندی کے حامل تھے جو اردوغان  کے مخالفین کی نظر میں ترکی کی نوبنیاد جمہوریت کے لئے خطرہ بن سکتا ہے ۔ بعض مبصرین دوسو پچھتر سے زیادہ فوجیوں کے مقدمہ کی پیچیدگيوں اورا رگنہ کن سے ان کے تعلقات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بعض مسائل اور پیچیدگیوں کی وجہ سے یہ مقدمہ اس قدر طولانی ہوگیا ہے ، اس کے باوجود ایسا لگتا ہے کہ ترکی میں مخالفین اور  موافقین کی دو متضاد نظریات کی وجہ  سے  اس مقدمہ کی پیچیدگیوں میں مزید اضافہ ہوگیا ہے ۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲