29 مارچ 2013 - 19:30

کیرانی روڈ شہداء کے چہلم کی تقریب کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ایم ڈبلیو ایم کے سیکرٹری جنرل کا کہنا تھا کہ جب تک دشمنوں کا یہ اتحاد نہیں توڑا جاتا تب تک پاکستان میں امن نہیں آئے گا۔ آج تک کسی بھی قاتل کو گرفتار کرکے سزاء نہیں دلوائی گئی۔ اور دشمنوں کے اس اتحاد کو عوامی جدوجہد کے ذریعے ہی توڑا جا سکتا ہے۔

ابنا: اسلام ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق کیرانی روڈ پر پیش آنے والے سانحے میں شہید ہونیوالوں کے چہلم کے موقع پر ایک عظیم الشان جلسے کا اہتمام کیا گیا، جلسے کے شرکاء سے آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی کے سربراہ سید اوسط علی، چئیرمین نور ویلفئیر سوسائٹی آمر علی چنگیزی، اور مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے خطاب کیا، آل پاکستان شیعہ ایکشن کمیٹی کے سربراہ سید اوسط علی نے جلسے کے شرکا ء سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں ہزارہ ٹاؤن کے شہداء کو سلام پیش کرتا ہوں اور بعد میں ان کے لواحقین کو کہ جن کے صبر و استقامت کی وجہ سے شیعہ ملت پوری دنیا میں سرخرو ہوئی۔ آپ اہل بیت علیہم السلام کے ماننے والے ہیں اور ہمیں یہ درس کربلا سے ہی ملاء ہے کہ ظلم کے خلاف ہمیشہ صبر و استقامت کے ساتھ ڈٹے رہیں اور آپ سب نے ویسا ہی کر دکھایا اور دنیا کو بتا دیا کہ علی علیہ السلام کے چاہنے والے کسی بےگناہ انسان کو نقصان پہنچائے بغیر اپنے حقوق حاصل کر سکتے ہیں۔ ہماری قوم صرف اتحاد و اتفاق کے ذریعے کامیاب ہو سکتی ہے۔ آنے والے الیکشن کیلئے میں آپ سے دست بستہ گزارش کرتا ہوں کہ اتحاد و اتفاق سے کام لیں کیونکہ ہزارہ ٹاؤن میں آپ کے پاس 35 ہزار رجسٹرڈ ووٹ ہیں اور اپنی اس طاقت کیساتھ ہم سب کا یہ فرض بنتا ہے کہ اس الیکشن میں ہم ہزارہ ٹاؤن سے ایک منتخب نمائندے کو ووٹ دلوا کر اسمبلی میں بھیجیں۔ ہماری ملت کو بیدار رہنا ہوگا تاکہ ہم صحیح معنوں میں اپنے دوست و دشمن کا تعین کرسکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمارے دشمن کو صرف پیچھے سے وار کرنا آتا ہے۔ ہماری ملت شہادتوں سے ڈرنے والی نہیں کیونکہ ہم کربلا والوں کے ماننے والے ہیں، لیکن اب ہم اپنے دشمنوں سے بھی انتقام لیں گے۔ اگر ہم سب متحد و منظم ہو جائیں تو جو بھی ہاتھ ہمارے خلاف اُٹھے گا ہم اُسے توڑ سکیں گے، اور دشمنوں کی شکست اسی میں ہے کہ ہماری پوری ملت متحد ہو۔ ہماری ملت میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جنہیں خود ایجنسیوں نے پالا اور ملت کو منتشر کرنے کیلئے انہیں استعمال کیا، مگر آپ حکومت اور ایجنسیوں کی سازشوں سے گھبرائیں نہیں‌ کیونکہ آج تک یہ ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکیں۔ آپ نے پاکستان بنایا اور اس کیلئے قربانیاں دیں اور پاکستان کو بچانے والے بھی آپ ہونگے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں شیعہ سُنی کا کوئی مسئلہ نہیں لیکن ایک یزیدی ٹولہ جو آل سعود کی پیداوار ہے ہمارے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی سازشیں کر رہا ہے۔ چئیرمین نور ویلفئیر سوسائٹی آمر علی چنگیزی کا جلسہ سے خطاب کے دوران کہنا تھا کہ ہمارے دشمن کو گوارہ نہیں کہ ہماری ملت تعلیم، کاروبار اور نوکری کرکے پاکستان کی خدمت کرے۔ دشمنوں کی کوشش یہی ہے کہ ہمیں عزاء حسینی سے روکے اور ہماری ماتم و عزاداری پر پابندی لگائے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سانحہ کرانی روڈ کے بعد پیش کئے جانے والے 23 نکات پر فوری عمل درآمد کرائے۔ ہم پاکستان کی پوری شیعہ ملت کے شکر گزار ہیں جنہوں‌ نے ہر مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا اور باہمی اتحاد و اتفاق سے ایک یزیدی حکومت کا خاتمہ کردیا۔ اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی  سیکرٹری جنرل علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب کوئٹہ کا واقعہ ہوا اور آپ دھرنا دے رہے تھے تو میں اُس وقت لبنان میں آیت اللہ سید حسن نصر اللہ کے پاس گیا تھا۔ انہوں نے مجھے کہا تھا کہ میری طرف سے ان مظلوم شہداء کے خاندانوں کو تسلیت و تعزیت پیش کریں اور انہوں نے کہا کہ میں اس غم میں آپ کے ساتھ برابر کا شریک ہوں۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری نے کہا کہ جو شخص اپنے زمانے کو نہیں پہچانے گا وہ محفوظ نہیں رہ سکتا۔ جسے اپنے زمانے کی پہچان ہے وہ دشمن کی سازشوں کا شکار نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ زمانے کی معرفت چند چیزوں سے حاصل ہوتی ہے۔ سب سے پہلے ہمیں اپنے دشمن کی پہچان ہونی چاہیئے۔ دوسرا دشمن کے اسٹریٹیجک پارٹنرز کی پہچان ہونی چاہیئے، کیونکہ دشمن کا دوست بھی دشمن ہوتا ہے۔ ہمیں‌ اپنے رہبر کی پہچان ہونی چاہیئے کیونکہ بغیر رہبری کے کبھی دشمنوں کا مقابلہ نہیں ہوتا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم سب کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیئے۔ یہی وہ اصول ہیں جن سے زمانے کی معرفت حاصل ہوتی ہیں۔ پاکستان، شام، بحرین، مصر، یمن سمیت دیگر ممالک میں ہمارے دشمن موجود ہیں۔ جب ضیاءالحق نے ذوالفقار علی بھٹو کا تختہ اُلٹا تو ضروری تھا کہ پیپلز پارٹی کو کمزور کیا جائے کیونکہ پاکستان کی شیعہ اکثریت پیپلز پارٹی کے ساتھ تھی۔ اسی لئے پیپلز پارٹی کو کمزور کرنے کیلئے شیعہ کو کمزور کرنا لازمی تھا۔ جس کیلئے اینٹی پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ وجود میں آئی جو اینٹی شیعہ بھی تھی۔ اسی دوران افغانستان میں روس نے قدم رکھا اور ایران میں انقلاب آ گیا۔ اسی کے ساتھ اس پورے خطے میں بڑی تبدیلیاں آ گئیں اور حالات بدلنا شروع ہوئے۔ جس کے بعد پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ نے اُس اقلیت کو اپنا اسٹریٹیجک پارٹنر بنایا جو انتہاء پسند تھے اور شیعہ سمیت اہل سنت کو بھی کافر کہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے بعد دوسری بڑی شیعہ آبادی پاکستان میں تھی اور اس کے ساتھ ساتھ تمام ممالک میں شیعہ پر مظالم کا سلسلہ شروع ہوا۔ اسی اسٹیبلشمنٹ نے دہشتگردوں کیلئے ٹریننگ کیمپس بنوائے۔ جنہوں نے افغانستان اور پاکستان میں شیعوں پر ظلم کرنا شروع کر دیا۔ آل سعود، امریکہ اور اسٹیبلشمنٹ نے ملکر پاکستان کو اپنے شکنجے میں لیا۔ پاکستان کے جن علاقوں میں شیعہ آبادی اکثریت میں تھی انہیں تقسیم کیا گیا اور ان کیخلاف بھرپور مہم شروع کی گئی۔ پورے ملک میں ایک اقلیت کو طاقتور بنا دیا گیا۔ جس کے بعد شیعہ و سُنی دونوں ان دہشتگردوں کے نشانے پر رہے اور دوسری جانب پاکستان کے جی ایچ کیو سمیت دیگر حساس مقامات پر حملے شروع ہوئے۔ جس کا براہ راست فائدہ انڈیا کو بھی ہوتا رہا اور ہماری آرمی کا مذاق اُڑایا گیا۔ علامہ راجہ ناصر عباس نے مزید کہا کہ جب تک دشمنوں کا یہ اتحاد نہیں توڑا جاتا تب تک پاکستان میں امن نہیں آئے گا۔ آج تک کسی بھی قاتل کو گرفتار کرکے سزاء نہیں دلوائی گئی۔ اور دشمنوں کے اس اتحاد کو عوامی جدوجہد کے ذریعے ہی توڑا جا سکتا ہے۔ پاکستان میں‌ پانچ کروڑ سے زائد شیعہ ملت آباد ہے۔ اب ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے اسٹریٹیجک پارٹنرز کا تعین کرکے پاکستان کو ان شدت پسندوں کے ہاتھوں سے آزاد کروائیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ نے پانچ دن استقامت دکھائی جس کی بدولت ایک طاغوتی حکومت گری۔ جسکے بعد دوسری مرتبہ ہمیں ڈرانے اور مایوس کرنے کیلئے کرانی روڈ پر حملہ ہوا، لیکن میں دشمن کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ ہم غاروں میں چُھپنے والے نہیں بلکہ دشمنوں کا ڈٹ کا مقابلہ کرنے والے ہیں کیونکہ ہم نے کرار (ع) کو اپنا امام مانا ہے کسی فرار کو نہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنرل کیانی اپنے دور ملازمت کی تین سال توسیع میں اپنے شہریوں کی حفاظت میں ناکام رہے۔ یہ سب آنکھیں بند کرکے بیٹھے رہے۔ ہم نے ان سے ہمیشہ مطالبہ کیا کہ کوئٹہ و کراچی میں بھی سوات طرز کا آپریشن کیا جائے لیکن انہوں نے ہماری بات نہیں سنی۔ جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ خود دشمن کے ساتھی ہیں یا ان سے ڈرتے ہیں۔ اگر ساتھی ہیں پھر بھی اہل نہیں اور اگر ڈرتے ہیں پھر بھی اہل نہیں ہیں۔ ہم میدانوں میں نکل کر انہیں رسوا کرینگے۔ علامہ راجہ ناصر عباس جعفری کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے جلد از جلد آپ کے مطالبات پورے نہ کئے ہم آپ سے وعدہ کرتے ہیں کہ پورے الیکشن میں ان سے انتقام لینگے۔ مجھے خبریں ملی ہے کہ آنے والے انتخابات میں پورے پاکستان میں دہشتگردی کی کارروائیاں ہونے والی ہیں اور میں‌ پاکستان کے تمام ریاستی اداروں کو خبردار کروں گا کہ اگر اس مرتبہ دہشتگردی کا کوئی بھی واقعہ ہوا تو ہم اپنے خون کا حساب جنرل کیانی سمیت تمام سیاسی حکمرانوں سے لیں گے۔ .........../242