25 اگست 2026 - 16:19
ٹرمپ کا مشکل وقت کے لیے منصوبہ؛ کشنر نے وسط مدتی انتخابات سے قبل ڈیموکریٹس سے رابطے شروع کر دیے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشیر جیرڈ کشنر کی ڈیموکریٹک پارٹی کے اقلیتی رہنما حکیم جیفریز سے اچانک ملاقات نے وسط مدتی انتخابات سے قبل امریکی سیاسی منظرنامے میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ ایسے وقت میں جب ٹرمپ کو کانگریس پر ریپبلکنز کی گرفت کمزور ہونے کا خدشہ ہے، کشنر کو ڈیموکریٹس کے ساتھ رابطے قائم کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے تاکہ انتخابات کے بعد اہم سیاسی معاملات پر مذاکرات کی راہ ہموار کی جا سکے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نومبر میں ہونے والے کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے قبل اپنے مشیر اور داماد جیرڈ کشنر کو ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ رابطے قائم کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔

اخبار نے انکشاف کیا ہے کہ حال ہی میں نیویارک میں ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹک اقلیت کے رہنما حکیم جیفریز اور جیرڈ کشنر کے درمیان ایک غیر متوقع ملاقات ہوئی۔ یہ ملاقات ایک مشترکہ دوست کی وساطت سے ہوئی، ایسے وقت میں جب آئندہ انتخابات میں کانگریس کی نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے کے لیے ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان مقابلہ شدت اختیار کرچکا ہے۔

نیویارک ٹائمز کے مطابق، اس ملاقات میں دونوں فریقوں کے درمیان مشترکہ امور کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ ایسے حالات کے لیے رابطے کا راستہ قائم کرنے پر بھی بات ہوئی جن میں کانگریس میں طاقت کا توازن تبدیل ہوسکتا ہے۔ ملاقات کے دوران رہائش، تارکین وطن، سرحدی سلامتی اور روزمرہ اخراجات میں اضافے سمیت اہم معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا، جو امریکی ووٹرز کی بنیادی ترجیحات میں شامل ہیں۔ کشنر نے یہ تجویز بھی پیش کی کہ آئندہ ایک ملاقات میں جیفریز وائٹ ہاؤس کی چیف آف اسٹاف سوزی وائلز سے گفتگو کریں۔

یہ سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایسے شواہد موجود ہیں کہ ڈیموکریٹس ایوان نمائندگان کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرسکتے ہیں۔ ایسی صورت میں ٹرمپ انتظامیہ کو قانون سازی اور نگرانی کے حوالے سے نئے چیلنجز کا سامنا ہوسکتا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹک قیادت کے ساتھ قبل از وقت رابطے وائٹ ہاؤس کی جانب سے قانون سازی کے ایجنڈے میں رکاوٹ سے بچنے اور ایوان میں ریپبلکن اکثریت ختم ہونے کی صورت میں ممکنہ تحقیقات میں اضافے کو روکنے کی کوشش ہوسکتے ہیں۔

دونوں جماعتوں میں متضاد ردعمل

اس ملاقات کے انکشاف نے ریپبلکن پارٹی کے اندر بھی کئی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ ایوان نمائندگان کے اسپیکر مائیک جانسن نے اس معاملے کی اہمیت کم کرتے ہوئے کہا کہ کشنر وائٹ ہاؤس میں کوئی سرکاری عہدہ نہیں رکھتے اور نہ ہی حکومت کے روزمرہ امور چلانے کی ذمہ داری ان کے پاس ہے۔

دوسری جانب حکیم جیفریز کو بھی ڈیموکریٹک حلقوں میں بعض تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔ انہوں نے ان تنقیدوں کے جواب میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ کشنر نے خود اس ملاقات کی درخواست کی تھی اور انہوں نے بھی روزمرہ زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے بحران پر بات چیت کی اہمیت کے پیش نظر ملاقات پر رضامندی ظاہر کی۔ تاہم جیفریز نے واضح کیا کہ ڈیموکریٹس ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں کی مخالفت جاری رکھیں گے۔

واضح رہے کہ کشنر اور جیفریز کے درمیان تعاون کا یہ پہلا موقع نہیں ہے۔ دونوں نے اس سے قبل 2018 میں فوجداری انصاف کے نظام میں اصلاحات سے متعلق ’’فرسٹ اسٹیپ ایکٹ‘‘ کی منظوری کے دوران بھی مل کر کام کیا تھا، جسے دونوں جماعتوں کی حمایت حاصل ہوئی تھی۔

اختتام/

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha