26 مارچ 2013 - 19:30

ميانمار ميں خود کش فسادات کا سلسلہ جاري ہے -

ابنا: ميانمار کے وسطي علاقے ميک تيلا ميں بدھ کے روز سے فسادات کا سلسہ جاري ہے اور بدامني کا دائرہ ملک کے سب سے بڑے شہر رنگون کے قريب پہنچ گيا ہے-خبروں ميں کہا گيا ہے کہ انتہا پسند ،  ملک کے وسطي علاقوں ميں مسلمانوں کے گھروں، دوکانوں اور مساجد پر حملے کر رہے ہيں-عيني شاہدين کا کہنا ہے کہ  حملہ آور چھريوں اور چاقووں سے مسلح ہيں اور پوليس کو فساديوں پر قابو پانے ميں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے-فسادات کا دائرہ پھيلنے کے بعد حکومت نے مزيد تين شہروں ميں کرفيو نافذ کرديا ہے-فسادات ميں مرنے والوں کي تعداد ميں مسلسل اضافہ ہورہا ہے اور اعداد شمار کے مطابق انتہا پسند بدھسٹوں کے تازہ حملوں ميں مرنے والوں کي تعداد چاليس سے تجاوز کرگئي ہے- سرکاري سطح پر جاري ہونے والے بيان ميں کہا گيا ہے کہ تشدد کے تازہ واقعات کے نتيجے ميں نو ہزار کے قريب لوگ بے گھر ہوئے ہيں-ادھر ہيومن رائٹس واچ ايشيا کے ڈپٹي ڈائريکٹر نے   کہا ہے کہ حکومت ميانمار نے روہنگيا مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ پاليسي اپنا رکھي ہے-انہوں نے الزام لگايا کہ سرکاري مشينري مسلمانوں تک امداد پہنچانے ميں روکاوٹيں ڈال رہي ہے جسکي وجہ سے انساني الميہ رونما ہونے کا خدشہ پيدا ہوگيا ہے-  واضح رہے کہ ميانمار ميں مسلمانوں کي تعداد آٹھ لاکھ کے قريب ہے اور حکومت انہيں سرکاري طور پر اپنا شہري تسليم نہيں کرتي_...../169