ابنا: اطلاعات کے مطابق میانمار میں مسلمانوں پر انتہا پسند بدھسٹوں کے حملے جاری ہیں اور فسادات کا دائرہ ملک کے سب سے بڑے شہر رنگون کے قریب تک پھیل گيا ہے۔ ان اطلاعات کے مطابق رنگون پئے شاہراہ پر واقع شہروں میں انتہاپسند بدھسٹوں نے مساجد اور مسلمانوں کی املاک پر حملے کئے ہیں۔ مسلمانوں پر بدھسٹوں کے حملوں میں اضافے کے بعد حکومت نے مزید تین شہروں میں کرفیو لگا دیا ہے۔ میانمار کے وسطی علاقے میں فسادات کے نتیجے میں اب تک 40 افراد مارے جا چکے ہیں۔ واضح رہے کہ وسطی شہر میکتیلا میں گزشتہ بدھ کو انتہا پسند بدھسٹوں نے کئي مسجدوں کو نذر آتش کردیا تھا جس کے بعد فسادات پھوٹ پڑے تھے۔ میانمار کے صدر نے جمعہ کو علاقے میں ایمرجنسی کا اعلان کرتے ہوئے فوج کو تعینات کردیا تھا اس کے باوجود پیر کو فسادات میکتیلا کے نزدیک کئی دیگر علاقوں میں پھیل گئے اور مسلمانوں کے بہت سے گھروں، دکانوں اور مساجد کو آگ لگا دی گئی۔ میانمار میں ہونے والے حالیہ فسادات کے نتیجے میں کم سے کم 12 ہزار مسلمان بے گھر ہو چکے ہیں۔
.....
/169