1 مارچ 2013 - 20:30

سعودي عرب ميں حکومت کي تفريق آميزپاليسيوں کے خلاف اور جيلوں ميں بند سياسي قيديوں کي رہائی کے مطالبے کو لے کرعوامي مظاہروں کا سلسلہ جاري ہے.

ابنا: سعودي عرب ميں شاہي حکومت کے خلاف عوامي تحريک ميں شدت کي خبريں موصول ہو رہي ہيں- عوامي احتجاج ميں شدت سے ملک ميں جمہوريت کے قيام اور بنيادي اصلاحات کے لئے عوام کے پرعزم ہونے کي نشاندھي ہوتي ہے-

سعودي عرب ميں جاري مظاہروں سے اس بات بھي نشاندھي ہوتي ہے کہ خطے ميں شروع ہونے والي اسلامي بيداري کي لہريں اس ملک ميں بھي پہنچ گئي ہيں اور اس صورتحال نے آل سعود خاندان کو شديد پريشاني ميں مبتلا کرديا ہے-سعودي عرب کے عوام نے مغربي حجاز کے علاقے ميں مظاہرے کے کرکے سياسي قيديوں کي رہائي کامطالبہ دھرايا ہے- مغربي حجاز ميں ہونے والے مظاہروں ميں شريک لوگ آل سعود حکومت کے خلاف نعرے لگا رہے تھے اور ان کا مطالبہ تھا کہ حکومت فوري طور پر سياسي  اور مذہبي بنيادوں  پر عام شہريوں کي گرفتاري کاسلسلہ بند کردے- سعودي عرب ميں گزشتہ ڈيڑھڑ برس سے عوامي مظاہروں اور احتجاج کا سلسلہ جاري ليکن ملک کي شاہي حکومت عوامي خواہشات کے مطابق سياسي تبديليوں کےبجائے طاقت کے زور پر عوامي تحريک کو کچلنے کي کوشش کرتي رہي ہے-

ايک اور اطلاع کے مطابق سو سے زيادہ سياسي قيديوں نے اپنے مشترکہ بيان ميں عوام سے اپيل کي ہے کہ وہ شاہي حکومت کے جھوٹے بيانات کے دھوکے ميں نہ آئيں اور پوري طرح سے ہشيار رہيں- طرفيہ جيل ميں بند ايک سوگيارہ سياسي قيديوں کے دستخط سے جاري ہونے والے بيان ميں اپنے بے گناہ ہونے کي طرف اشارہ کرتے ہوئے عوام سے اپيل کي گئي ہے کہ سرکاري ذرائع ابلاغ کي جھوٹي خبروں ميں نہ آئيں اور گرفتار شدہ گان کے خلاف حکومت کي جانب سے لگائے جانے والے الزامات پر يقين نہ کريں-

شاہي حکومت کي جيلوں ميں بند ان قيديوں کے بيان ميں عوام کي جانب سے خانداني آمريت کے خاتمے کي تحريک جاري رکھنے اور سياسي قيديوں کي حمايت ميں کئے جانے والے مظاہروں کي قدر داني کي گئي ہے-  واضح رہے کہ سعودي عرب کي حکومت طاقت کے استعمال اور عوام کو ڈرانے دھماکے کے باوجود عوامي احتجاج کے شعلوں ميں خاموش کرنے ميں ناکام  ہوگئي ہے- اس ملک کے شہريوں نے ثابت کرديا ہے  کہ وہ حکومت کے خلاف اپنے احتجاج اور مظاہروں کو ختم کرنے والے نہيں ہيں-

شاہي حکومت کے خلاف سعودي عرب کے عوام کا احتجاج اور اسي طرح بحرين سميت خطے کے ديگر ملکوں ميں اسکي مداخلت پسندانہ پاليسيوں کے خلاف ان ملکوں ميں ہونے والے مظاہروں سے رائے عامہ کے درميان سعودي حکمرانوں کے خلاف نفرت ميں آنے والي شدت کو پوري طرح محسوس کيا جاسکتا ہے-

خطے کے حالات بھي اس بات کي نشاندہي کر رہے ہيں کہ سعودي حکومت کي مذموم پاليسياں اور طاقت کے استعمال کے تمام حربے بھي اسلامي بيداري کي لہر کو اس ملک ميں پہنچنے سے نہيں روک پائے ہيں- سياسي ماہرين کا خيال ہے کہ شاہي حکومت کے ستون کمزور سے کمزور ہوتے جانے کي صورت ميں استبدادي حکومت کا خاتمہ يقيني ہے-

.......

/169