ابنا: اٹلی کے دارالحکومت روم میں اقوام متحدہ کے فلسطینی عوام کی معاونت کے حوالے سے سیمنار میں بان کی مون نے اپنے پیغام میں کہا کہ دونوں فریقوں کو ایسے کسی اقدام سے گریز کرنا چاہیے جس سے مذاکرات کی بحالی کا عمل متاثر ہو۔انہوں نے کہا کہ مذاکرات کی بحالی میں ناکامی سے پورا خطہ پر تشدد اور غیرمستحکم ہوگا ۔انہوں نے کہا کہ خطے میں استحکام کیلئے 45 سال سے جاری اس مسئلے کا حل ضروری ہے اور اسرائیل کو چاہیے کہ وہ مذاکرات میں شامل ہو اور دونوں فریق سرحدی سیکورٹی، نوآبادی اور پانی جیسے مسائل کے حل کیلئے اپنے عزم کا اظہار کریں۔بان کی مون نے خدشہ ظاہر کیا کہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں یہودی بستیوں کی مسلسل تعمیر بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں اورامن مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔بان کی مون نے گزشتہ ہفتے کو اسرائیلی قید میں فلسطینی کی ہلاکت پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا ۔
27 فروری 2013 - 20:30
News ID: 395613
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے کہا ہے کہ 2013ء فلسطین اور اسرائیل کےلئے امن مذاکرات کے حوالے سے فیصلہ کن ثابت ہوگا ۔