22 فروری 2013 - 20:30

نجاب پولیس کی طرف سے ملک اسحاق کی گرفتاری محض دکھاوا ہے، دراصل اس کارروائی کا مقصد اسے تحفظ فراہم کرنا ہے، پنجاب حکومت نے کالعدم سپاہ صحابہ سے معاہدہ کر رکھا ہے کہ وہ پنجاب میں کوئی ایسی کارروائی نہیں کریگی جس سے پنجاب حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔

ابنا: اسلام ٹائمزکے رپورٹ کی مطابق جنگ کے رپورٹر اور معروف اینکر پرسن حامد میر کے بھائی عامر میر نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ وفاقی حکومت چاہتی ہے کہ پنجاب حکومت کالعدم لشکر جھنگوی اور سپاہ صحابہ کے خلاف بڑا آپریشن کرے، تاہم وزیراعلٰی شہباز شریف بمشکل ہی اس کی اجازت دیں گے۔ اس کی بنیادی وجہ آئندہ انتخابات کے لیے مسلم لیگ (ن) اور  کالعدم سپاه صحابه میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا طے پانا ہے۔ دونوں جماعتیں جنوبی پنجاب کی کم از کم 15 نشستوں پر سیٹ ایڈجسٹمنٹ کرتے ہوئے ایک دوسرے کے خلاف امیدوار کھڑے نہیں کریں گی۔ احمد لدھیانوی اور ملک محمد اسحق جو کہ کالعدم سپاه صحابه  کے صدر اور نائب صدر ہیں، مسلم لیگ (ن) کی مدد سے جنوبی پنجاب سے کم از کم قومی اسمبلی کی دو نشستوں پر انتخاب لڑیں گے۔حال ہی میں رحمن ملک نے  پنجاب حکومت پر کالعدم سپاہ صحابہ اور لشکر جھنگوی کی سرپرستی کا الزام عائد کیا ہے۔ 20 فروری کو سینیٹ میں بیان دیتے ہوئے رحمن ملک نے کہا کہ ”اگر پنجاب حکومت ان دہشت گرد گروپوں کے خلاف سخت ایکشن نہیں لے گی تو وہ خود ان کے ٹھکانوں پر چھاپے ماریں گے۔ ان تنظیموں کے مرکزی ہیڈ کوارٹر پنجاب میں ہیں، جبکہ کراچی میں بھی ان کے دفاتر قائم ہیں۔“ مبصرین کا کہنا ہے کہ پنجاب پولیس کی طرف سے ملک اسحاق کی گرفتاری محض دکھاوا ہے، دراصل اس کارروائی کا مقصد اسے تحفظ فراہم کرنا ہے، پنجاب حکومت نے کالعدم سپاہ صحابہ سے معاہدہ کر رکھا ہے کہ وہ پنجاب میں کوئی ایسی کارروائی نہیں کریگی جس سے پنجاب حکومت کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔