ابنا: پاکستانی خبررساں ایجنسیوں کے مطابق پیر کے روز اسلام آباد میں قومی اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان کو جن خطرات کا سامنا ہے ان سے نمٹنے کیلئے اجتماعی دانشمندی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت میں کوئی بھی ہو دہشت گردی کیخلاف ہم سب متحد ہیں، قوم کو یقین دہانی کراتے ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف ہر حد تک جائیں گے اور کوئی سمجھوتہ نہیں کرینگے
انہوں نے کہا کہ گورنر بلوچستان کو واضح احکامات دے دیئے ہیں کہ اس سانحہ میں وفاقی یا صوبائی سطح کے کسی بھی ادارے کی کوتاہی ہو اس کیخلاف کارروائی کی جائے اور اسے سزا دی جائے۔
انہوں نے کہا کہ کوئٹہ میں جب پہلا واقعہ ہوا تو ہزارہ کمیونٹی کے مطالبہ پر گورنر راج لگایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے لوگوں کی جان و مال کی حفاظت حکومت کی ذمہ داری ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ہزارہ کمیونٹی کو ہر ممکن تحفظ کی ہدایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ بڑے بہادر، صبر اور حوصلے والے ہیں۔ ہم سب نے ملکر ان واقعات کے مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانا ہے پوری پاکستانی قوم نے ایک دوسرے کے ساتھ ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ان کیخلاف صف آراء ہونا ہے۔
وزیراعظم نے اراکین اسمبلی سے کہا کہ جب اس موضوع پر گفتگو کریں تو باہمی اختلاف کا تاثر نہیں سامنے آنا چاہئے یہاں پر جس نے بھی اس واقعہ پر بات کی ہے اس کی مذمت کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک دوسرے کی طاقت بننا ہو گا، جب پورا معاشرہ دہشت گردی کیخلاف کھڑا ہو گا، تمام مکاتب فکر متحد ہونگے تب دہشت گردوں کیخلاف تفریق ختم ہو گی اور یہ پیغام جائے گا کہ ہم ان کیخلاف ایک ہیں اور اسی طرح انہیں شکست دی جا سکتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ ایک دوسرے پر الزام تراشی اور ایک دوسرے کو زچ کرنا ظالم قوتوں کی مدد کے مترادف ہے۔ آج تقسیم کی بات نہیں ہونی چاہئے، یہ حکومت یا اپوزیشن کی بات نہیں ہے، پاکستان کو جن خطرات کا سامنا ہے ان سے نمٹنے کیلئے اجتماعی دانشمندی سے کام لینے کی ضرورت ہے۔