14 فروری 2013 - 20:30

تہران کی مرکزی نماز جمعہ آیت اللہ سید احمد خاتمی کی امامت میں ادا کی گئي ۔

ابنا: خطیب جمعہ تہران نے لاکھوں نمازیوں سے خطاب میں ملت ایران کو مایوس کرنے کے لئے عالمی سامراجی اور صہہونیت کی دھمکیوں اور سازشوں کی مذمت کی۔  آیت اللہ سید احمد خاتمی نے کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ملت ایران کو مایوس کرنے نیز اسلامی انقلاب کے اھداف و مقاصد کی طرف اس کی ترقی کوروکنے کے لئے اپنی سازشوں میں ناکام ہوچکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملت ایران ایٹمی ٹکنالوجی سمیت اپنے تمام حقوق حاصل کرنے کے لئے تمام دباؤ اور خطروں کا ڈٹ کر مقابلہ کرے گي۔  خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ مغربی ملکوں کے مذاکرات سے یہ کوشش کہ ملت ایران کو اس کے پرامن ایٹمی حقوق سے محروم کیاجائے بے نتیجہ رہے گي اور ایٹمی مذاکرات ملت ایران پر مزید دباؤ ڈالنے کےلئے امریکہ کا ایک بہانہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ مغرب یہ جان لے کہ ملت ایران نہ صرف اپنے حقوق سے دستبردار نہیں ہوگي بلکہ مغرب کے دباؤسے پیدا ہونے والی مشکلات پر قابو پاکر دشمنوں کو نہایت شدید جواب دے گي۔
آیت اللہ سید احمد خاتمی نے اسلامی انقلاب کی چونتیسویں سالگرہ کے موقع پر نکالے جانے والوں جلوسوں میں ملت ایران کی بھرپور شرکت کو سراہتے ہوئے اسے بے نظیر قراردیا اور کہا کہ بعض امریکی حکام نے بھی تمام تر سازشوں اور دباؤ کے باوجود ان جلوسوں میں عوام کی شرکت کو بے مثال ہونے کا اعتراف کیا ہے۔ خطیب جمعہ تہران نے بائيس بہمن مطابق دس فروری کو عظیم جلوسوں میں ایرانی عوام کی بھرپور شرکت کو ولایت فقیہ، اسلامی انقلاب کے اھداف و مقاصد اور شہداء کے ساتھ ملت ایران کی وفاداری کا ثبوت قراردیا۔ انہوں نے کہا کہ ملت ایران اسلامی نظام میں ولایت ففیہ کی مرکزی حیثیت پر تاکید کرتی ہے اور تمام مسائل میں رہبرانقلاب اسلامی کی اتباع کو ضروری سمجھتی ہے۔ خطیب جمعہ تہران نے کہا کہ ملت ایران مختلف میدانوں میں موجودگي کو اپنا فریضہ سمجھتی ہے اور چار مہینوں کے بعد گيارہویں صدارتی انتخابات میں بھی بھر پور شرکت کرکے ایک بار پھر اسلامی نظام سے اپنی وفاداری کا ثبوت پیش کرے گي۔ آیت اللہ سید احمد خاتمی نے بحرین کے حالات کے بارے میں اسلامی جمہوریہ ایران کے موقف کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ بحرین کے عوام کو حق خود داریت حاصل ہونا چاہئیے اور یہ ان کا حق ہے کہ وہ اپنے ملک کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرسکیں۔ انہوں نےشام کی صورتحال کے بارے میں کہا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی یہ سوچ رہے تھے کہ شام میں دہشتگرد بھیج کر اور دہشتگردوں کی فوجی حمایت کرکے شام کی حکومت کو سرنگوں کردیں گے لیکن نہ صرف ان کا یہ ھدف پورا نہیں ہوا بلکہ اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران کی جانب سے پیش کی گئی راہ حل، شام کے بحران کے حل کی بہترین راہ ہے۔ شام کے بحران کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران نے ہمہ گير قومی مذاکرات اور مفاہمت آمیز طریقوں کی پیش کش کی ہے۔   
.......
/169