14 فروری 2013 - 20:30

برطانوي پارليمنٹ کے ايک رکن کو ہولوکاسٹ سے صہیونيوں کے مظالم کا موازنہ کرنے کي پاداش ميں سخت باز پرس کا سامنا کرنا پڑا اور سرانجام اس کو اپنے بيان پر معافي مانگني پڑي ہے -

ابنا:  برطانيہ کي لبرل پارٹي کے ممبر پارليمنٹ ڈيوڈ وارڈ نے اپنے بلاگ ميں لکھا تھا کہ ميں ہولوکاسٹ کے دور ميں يہوديوں کے لئے پيش آئے ناقابل يقين واقعات پڑھ کر غم زدہ ہوجاتا ہوں ليکن يہودي جنھوں نے يہ تمام مصائب و آلام برداشت کئے ہيں وہ ہولوکاسٹ کو محض چند سال کا عرصہ گذر جانے کے بعد کيونکر فلسطينيوں کے خلاف ويسے ہي مظالم ڈھار ہے ہيں - انہوں نے لکھا کہ ان کے اس بيان کا مطلب يہوديوں کي توہين کرنا نہيں ہے بلکہ مقصد فلسطينيوں کے خلاف اسرائيل کے اقدامات پر تنقيد کرنا ہے - ڈيوڈ وارڈ کو اس بلاگ کے بعد ليبرل پارٹي کي ہائي کمان ميں طلب کيا گيا اور ان کا مواخذہ کيا گيا - برطانيہ کي لبرل پارٹي کے عہديداروں کا کہنا ہے کہ ڈيوڈ وارڈ کا يہ بيان غير قابل قبول ہے
برطانيہ کي ليبرل پارٹي کي قيادت نے اعلان کيا ہے کہ بہت سي تنظيموں  کي طرف سے يہ مطالبہ کيا جارہا ہے کہ ڈيوڈ وارڈ کے خلاف سخت کاروائي کي جائے –
ڈيوڈ وارڈ نے بھي اپنے اوپر پڑنے والے دباؤ اور صہيوني لابي کي طرف سے سخت تنقيدوں کے بعد مجبورا معافي مانگ لي ہے -
     مغرب ميں اگر کوئي شخص ہولو کاسٹ کي ماہيت پر بولنے اور اس پر تحقيق کرنے کي کوشش کرتا ہے تو اس پر عدالتي کاروائي ہوتي ہے اور نتيجے ميں نقد جرمانہ يا پھر قيد کي سزا بھي اس کو بھگتنا پڑتي ہے - اس وقت يورپ کے بہت سے ملکوں ميں ہولو کاسٹ کے انکار يا اس کو مبالغہ آميز قرار ديئےجانے کو ايک جرم سمجھا جاتا ہے –
آسٹريا ، بلجيم ، جمہوريہ چک، فرانس ، جرمني ، ليتھوانيا ، پولينڈ ، رومانيہ ،  سلواکيہ اور سوئزرلينڈ وہ يورپي ممالک ہيں جن ميں ہولو کاسٹ کے انکار کو جرم سمجھا جاتا ہے –
اسي لئے اب تک ان ملکوں ميں بہت سي علمي سياسي  اور سماجي شخصيات کو ہولوکاسٹ پر تنقيد کرنے کي وجہ سے سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا ہے -
   سن دوہزار چھے  ميں بھي برطانيہ کے مورخ ڈيوڈ ارونگ کو ہولو کاسٹ پر تنقيد کرنے کے جرم ميں تين سال قيد کي سزا سنائي گئي تھي-
اسي طرح فرانسيسي محقق راجر  گارودي کو بھي ہولو کاسٹ پر تنيقد کرنے کي بنا پر سزائے قيد کا سامنا کرنا پڑا - جبکہ سوئيس مورخ يورگن گراف بھي اسي جرم ميں قيد کي سزاکے مستحق قرار پائے مگر وہ سوئزرلينڈ سے فرار کرگئے - وہ اس وقت روس ميں ہيں- 
    اس وقت برطانيہ کي ليبرل پارٹي کے ممبر پارليمنٹ کو بھي جنھوں نے بالواسطہ طور پر ہولوکا سٹ پر سواليہ نشان لگايا ہے اسي قسم کي صورتحال کا سامنا ہے جبکہ انہوں نےہولوکاسٹ پر کوئي تنقيد نہيں کي تھي بلکہ فلسطينيوں کے خلاف صيہوني حکومت کے اقدامات پر تنقيد کي تھي - بہرحال ڈيوڈ وارڈ کے خلاف  برطانيہ کي لبرل پارٹي کے عہديداروں کا اقدام  ايک بار پھر مغرب اور خاص طور پر برطانيہ ميں آزادي بيان کے دعوے کے جھوٹے ہونے پر مہر تصديق لگاديتا ہے –
.......
/169