ابنا: شیخ حمد بن جاسم نے پیرکےدن کویت میں عربی بین الاقوامی تعلقات کونسل کی پہلی عالمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب میں علاقائی ممالک کےدرمیان پرامن بقائےباہمی کوضرورت پرتاکیدکی۔ قطرکےوزیراعظم نےعلاقےکےممالک کےدرمیان پرامن بقائےباہمی کوعملی جامہ پہنائےجانےکی ضرورت پرتاکیدکرتےہوئے تجویز دی کہ اسلامی جمہوریہ ایران اورعرب ممالک کی مشارکت سےعلاقائی سیکورٹی کاادارہ تشکیل پاناچاہئے۔قطرمشرق وسطی کاایک معمولی رقبےاورمختصرآبادی والا چھوٹاساملک شمارہوتاہے جواپنی دولت اورذرائع ابلاغ سےاستفادہ نیزمغربی حکومتوں کی حمایت سے علاقےمیں اہم اور موثرکردارادا کرنےکاخواہاں ہے۔ حکومت قطرکی کوشش ہےکہ مشرق وسطی اورشمالی افریقہ میں اسلامی بیداری کی نئی لہرکواپنےمقاصد کےلئےاستعمال کرے۔اس امر کےپیش نظر کہ قطر ، آبادی ، رقبہ ، فوجی طاقت، اپنی تاریخ اور مقامی افرادی قوت کاحامل نہيں ہے جوعلاقائی سطح پر ایک اہم کھلاڑی کےوسائل ہوتےہیں،اس نےاپنےمقاصد تک پہنچنےکےلئے بڑی طاقتوں کی پالیسیوں اوراسٹریٹیجی کواختیارکیاہے۔مغربی ممالک کےساتھ اس کی یہ یکجہتی اکیسویں صدی کےپہلےعشرےمیں کسی حدتک سامنےآگئي تھی لیکن گذشتہ دو برسوں میں وہ کھل کرسامنےآگئی۔حکومت قطر نےگذشتہ دوبرسوں میں مشرق وسطی اورشمالی افریقہ بالخصوص لیبیا، شام ، بحرین اورعراق کےاندرونی تبدیلیوں میں مغربی طاقتوں کاکھل کرساتھ دیا اورمشرق وسطی میں مغربی ممالک بالخصوص امریکہ کی پالیسیوں پرعمل درآمد کرانےوالا بن چکا ہے۔اہم بات یہ ہےکہ مغرب نےگذشتہ دوبرسوں کےدوران موجودہ علاقائی نظام کی حفاظت نیزعرب ممالک میں طاقت وحکومت کےڈھانچوں کی حفاظت کی سمت قدم اٹھایاہے اوریہ کوشش کرتارہا ہےکہ علاقےکی قوموں کےمدنظرنظام حکومت معرض وجود میں نہ آنےدے۔اس بیچ قطر نے اپنے مضبوط مالی وسائل نیزالجزیرہ ٹی وی سےکہ جس نے دنیائےعرب میں عوام کےمدنظرعلاقائی اورملکی نظام معرض وجود میں آنےسےروکنےکی بھرپورکوشش کی ہے، استفادہ کیاہے۔قطر اور علاقےکےبعض ممالک نےعلاقےسےباہرکی طاقتوں کی حمایت سے شام اورعراق میں امن وثبات کودرہم برہم کرنےکی کافی کوشش کی ہے۔ان حالات میں علاقےکےممالک کےدرمیان پرامن بقائےباہمی کےلئےعلاقائی سیکورٹی ادارےکی تشکیل کےلئےقطرکےوزیراعظم کی تجویز، کسی پروپیگنڈےسےکم نہیں ہے ۔ مشرق وسطی میں علاقےسےباہر کی طاقتوں کی موجودگی کےسلسلےمیں علاقےکی اصلی طاقتوں بالخصوص ایران کاموقف نیزبعض عرب ممالک میں اقتدارکی ہلتی ہوئي بنیادوں سےپتہ چلتاہے کہ قطرکےوزیراعظم کی تجویز، علاقےکی رائےعامہ کی توجہ حاصل کرنےکی کوشش اورحکومت قطر کےلئےایک پروپیگنڈہ ہے۔
.......
/169