10 فروری 2013 - 20:30

ہندوستان کے زیرانتظام جموں وکشمیر میں احتجاجی مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ اور تشدد میں درجنوں مظاہرین زخمی ہوئے ہیں جن میں بعض کی حالت نازک بتائی گئی ہے جبکہ پولیس کی جانب سے کئے گئے تعاقب کے دوران دریائے جہلم میں ڈوب کر ایک نوجوان کی موت واقع ہوگئی جبکہ مزید تین نوجوان بھی زخمی ہوگئے ہیں۔

ابنا: سرینگر ... اطلاعات کے مطابق افضل گورو کی پھانسی کے بعد وادی بھر میں کرفیو،پتھرائو ،لاٹھی چارج ،ٹائر گیس شیلنگ اور فائرنگ کا سلسلہ کل دوسرے روز بھی جاری رہا ۔رپورٹ کے مطابق اتوار کی شام کو افضل گورو کے آبائی وطن دوآب گاہ کے نزدیک ہی وترگام رفیع آباد میں سی آر پی ایف کی فائرنگ میں چار نوجوان زخمی ہوگئے جن میں سے دو کو انتہائی نازک حالات میں سرینگر منتقل کیا گیا ۔مقامی لوگوں نے سی آر پی ایف پر براہ راست فائرنگ کرنے کا الزام عائد کیا ہے جبکہ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ علاقے میں پتھرائو اور پر تشدد صورتحال کو  قابو کرنے کیلئے کئے گئے اقدامات کے دوران کئی اہلکار اور مقامی نوجوان زخمی ہوگئے ۔ ادھر سمبل میں فورسز و پولیس کی جانب سے کئے گئے تعاقب کے دوران دریائے جہلم میں ڈوب کر ایک نوجوان کی موت واقع ہوگئی جبکہ مزید تین نوجوان بھی زخمی ہوگئے۔
 کرفیو کے باوجود افضل گرو کی پھانسی کے خلاف  سرینگر ،سوپور ،رفیع آباد ،سمبل اور بارہمولہ کے علاوہ شمالی ، جنوبی اور وسطی کشمیر کے کئی علاقوں میں زبردست احتجاجی مظاہرے ہوئے جبکہ پولیس و سی آر پی ایف نے بھی مظاہرین کو منتشرکرنے کیلئے ان پر فائرنگ کی۔
اس دوران سرینگر میں سخت ترین کرفیو کے نفاذ کے باعث نظام زندگی بری طرح مفلوج ہوکر رہ گیا ۔انتظامیہ نے شہر سرینگر کے سبھی علاقوں میں سخت ترین کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا تاہم کئی مقامات پر نوجوانوں نے احتجاجی مظاہرے کئے جبکہ کئی علاقوں میں افضل گورو کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔

.......

/169