8 فروری 2013 - 20:30

کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور علماء کے قتل کے خلاف جمعیت علماء اسلام کی طرف سے ہڑتال جاری ہے۔ دوسری طرف شہر کےمختلف علاقوں میں جاری ہنگامہ آرائي میں دوگاڑیاں نذر آتش کردی گئي ہیں۔ تاجروں، بعض سیاسی جماعتوں اور نجی ایسوسی ایشنز نے ہڑتال کی حمایت کی ہے۔

ابنا: جماعت اسلامی کراچي کے امیر اور اہلسنت و الجماعت کے ترجمان نے شہریوں سے پرامن احتجاج کرتے ہوئے ہڑتال کو کامیاب بنانے کی اپیل کی ہے۔
ادھر سپریم کورٹ آف پاکستان نے کراچی امن امان کیس کی سماعت کی ہے ۔ اس سماعت کے دوران انکشاف کیا گیا ہےکہ کراچی پولیس کے چارسو افسران جرائم میں ملوث ہیں۔ عدالت عالیہ نے کہا ہے کہ عوام کو پولیس پراعتبار نہیں کیونکہ اسے سیاست سے پاک کرنے کی کوشش نہیں کی جاتی۔ ممبر انسپیکشن ٹیم سندھ ہائي کورٹ کی رپورٹ میں انکشاف ہوا ہےکہ کراچی پولیس کے چار سو افسران قتل، ڈکیٹی، اور دیگر جرائم میں ملوث ہیں۔ عدالت نے ان چارسو افسران کی تمام تفصیلات طلب کرلی ہیں۔ سپریم کورٹ کی لارجر بینچ نے ڈپٹی اٹارنی جنرل جاوید فاروقی کی کارکردگي پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شاید وفاقی حکومت کراچی میں امن و امان کے قیام کے لئے دلچسپی ہی نہیں رکھتی۔ واضح رہے پاکستان کی اقتصادی شہ رگ کراچی کئي برسوں سے بدامنی اور ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہے  اورکیس کی سماعت پچيس فروری تک ملتوی کردی گئي ہے۔  

.......

/169