ابنا: قاہرہ میں شروع ہونےوالےاسلامی تعاون تنظیم کےسربراہی اجلاس کاعنوان عالم اسلام ، نئےچیلنج اورترقی کےمواقع ہے ۔یہ اجلاس کل بھی جاری رہےگا۔ اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران کےصدرڈاکٹراحمدی نژاد سمیت دنیاکےستاون ملکوں کےسربراہان مملکت اوراعلی حکام موجود ہیں۔ اس اجلاس میں چھبیس ممالک کےسربراہان مملکت بھی شریک ہیں۔اسلامی کانفرنس کےسربراہی اجلاس میں صدرمملکت ڈاکٹراحمدی نژاد کی شرکت سےاجلاس کی اہمیت مزید بڑہ گئی ہے کیونکہ اسلامی انقلاب کی کامیابی کےبعدگذشتہ چونتیس برسوں میں کسی بھی ایرانی صدر کایہ پہلادورہ مصر ہے۔جہاں تک ایران اورمصرکےتعلقات میں فروغ کی بات ہے تواب مصرسےفرعون مصرکی آمرانہ حکومت کےخاتمےاورانقلاب مصرکی کامیابی کےبعدوہاں قائم ہونےوالی جمہوری حکومت اورتہران کےتعلقات میں کسی طرح کی روکاوٹ نظرنہيں آتی اورجیساکہ صدرمملکت ڈاکٹراحمدی نژاد سےملاقات کےموقع پرمصرکےصدرمحمدمرسی نے کہاکہ ایران اورمصرموجودہ حالات میں تمام شعبوں میں اپنےتعاون کوپوری طرح فروغ دےسکتےہیں اوراب دنیاایران اورمصرکےتعاون کانیاباب دیکھےگی مصرکےصدرمرسی کایہ بیان اس بات کاثبوت ہےکہ مصر کم ازکم ایران مصرتعلقات اورمسئلہ فلسطین کےسلسلےمیں حسنی مبارک کی صیہونیت نواز پالیسیوں پرہرگزعمل پیرا نہيں رہےگاکہ جوایران مصرتعلقات میں سب سےبڑی روکاوٹ تھی ۔ایران کوحسنی مبارک کی صہیونیت نواز اورفلسطین مخالف پالیسیوں پرشدیداعتراض تھا اورایران چاہتاتھاکہ مصربھی دوسرےمسلمان ممالک کی مانند مسئلہ فسلطین کی حمایت کرے لیکن حسنی مبارک کی امریکہ اورصہیونیت نوازپالیسیاں اس میں ہمیشہ آڑےآتی رہیں۔
مصرمیں اوآئی سی کےسربراہی اجلاس میں فلسطین اورشام کےمسائل بھی زیرغورآئيں گے ان دونوں موضوعات پراس سےقبل اوآئی سی کےوزرائےخارجہ کےاجلاس میں بھی بحث ہوچکی ہے اوراختتامی بیان میں بھی ان موضوعات کوخاص طورپرشامل کیاگیاہے۔اجلاس کےدوران فلسطین کےمقبوضہ علاقوں میں صہیونی ریاست کےذریعےتعمیرکی جارہی صہیونی بستیوں کامعاملہ بھی بھرپورانداز میں اٹھایاجائےگا۔اس کےعلاوہ عالم اسلام کےدیگرمسائل اورمشکلات بھی اجلاس کےایجنڈےمیں شامل ہیں۔ عالم اسلام کےحوالےسےجہاں تک ایران کاسوال ہے توایران، عالم اسلام کےتمام مسائل کےحل پرتاکیدکےساتھ ہی اتحاد بین المسلمین کاعلبردار ہےکہ جس کےتشنہ تعبیرہونےسےعالم اسلام کےتمام بڑےمسائل خود بخود حل ہوسکتےہیں اورشام کےبارےمیں بھی ایران کی پالیسی واضح ہے۔ایران مسئلہ شام کواندرون ملک مختلف مخالف گروہوں اورحکومت شام کےدرمیان بات چیت کےذریعےحل کاخواہاں ہے جبکہ علاقےکےبعض عرب ممالک اورترکی مغربی ممالک بالخصوص امریکہ کی ایماء پر شام کےبحران کودہشتگردوں کوہتھیاردےکراورفوجی مداخلت کےذریعےبشاراسدکی حکومت کاتختہ الٹ کرحل کرناچاہتےہیں لیکن مصری صدرمحمدمرسی کا شام کےمسئلےمیں ایران پرمکمل اعتماد کااظہارکرنااوراس سلسلےمیں ایران کی مکمل حمایت کااعلان اس بات کاثبوت ہے کہ ایران اورمصر شام اوفسلطین سمیت علاقائی اورعالمی مسائل میں ایک دوسرے کےساتھ تعاون کرنےکاعزم کئےہوئےہيں جوبذات خود باہمی تعلقات میں فروغ پرمنتج ہوگا۔
.......
/169