ابنا: دریں اثناء بعض ذرائع نے یہ امکان ظاہر کیا ہے کہ فروری کے مہینے میں مذاکرات ہوں گے۔ لیکن یہاں یہ سوال اٹھتا ہے کہ مذاکرات کے انعقاد کے سلسلے میں ابھی تک اتفاق رائے کیوں نہیں ہوسکا ہے۔ حالانکہ رابطوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ اس سے پہلے اعلان کیا گیاتھاکہ جنوری کے مہینے میں مذاکرات ہوں گے۔ یورپ کی جانب سے پیش کی جانے والی رپورٹوں کے جائزے سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ یورپ یہ ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ وہ مذاکرات کی جگہ اور وقت کے بارے میں لچک کا مظاہرہ کر رہا ہے۔
ایران اور گروپ پانچ جمع ایک نے گزشتہ برس دسمبرکے مہینے میں مذاکرات کے از سر نو آغاز کے لۓ آپس میں رابطے کۓ تھے ۔ واضح رہے کہ یورپ کے بے بنیاد بہانوں کی وجہ سے آٹھ ماہ سے زیادہ عرصے سے ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں۔ ان مذاکرات کا آخری دور جون دو ہزار بارہ کو ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری سعید جلیلی اور یورپی یونین کی خارجہ پالیسی شعبے کی سربراہ کیتھرین ایشٹون کے درمیان ہوا تھا۔
یورپی یونین نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں دعوی کیا کہ ایران مذاکرات کے مقام میں تبدیلی اور مذاکرات کے بارے میں پیشگی شرائط کے ذریعے جان بوجھ کر گروپ پانچ جمع ایک کے ساتھ مذاکرات کو التواء میں ڈالنے کے درپے ہے۔ یورپ نے اس بیان کے ذریعے مذاکرات کے نۓ دور کے لۓ تاریخ اور جگہ کے طے نہ پانے کی ذمےداری ایران پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔
یورپ کا یہ غلط موقف ایسی حالت میں سامنے آياہےکہ جب اسلامی جمہوریہ ایران کی اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری نے اپنے حالیہ دورۂ ہندوستان کے موقع پر دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ہم نے اس بات کا اتفاق کیا ہے کہ یہ مذاکرات جنوری کے مہینے میں انجام پانے چاہئيں لیکن ابھی تک مذاکرات کی تفصیلات کو حتمی شکل نہیں دی گئی ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے سفارتخانے میں ہونے والی اس پریس کانفرنس میں سعید جلیلی نے مزید کہا کہ ایران نے مذاکرات کے از سر نو آغاز کے لۓ پانچ تجاویز پیش کی ہیں۔ اور گروپ پانچ جمع ایک کے اراکین نے بھی تسلیم کیا ہے کہ یہ تجاویز تعمیری ہیں۔ اور طے پایا ہے کہ وہ ان تجاویز کا مطالعہ کرنےکے بعد ہمیں کوئي جواب دیں گے لیکن کئي ماہ کی تاخیرکے بعد اب انھوں نے مذاکرات کی میز پر واپسی کے لۓ اپنی آمادگی کا اعلان کیا ہے۔
بہرحال مسئلہ یہ نہیں ہے کہ عالمی طاقتوں کو تہران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں سے متعلق مذاکرات کے آغاز پر کوئي تشویش لاحق ہے بلکہ مذاکرات کے لۓ ان کا محرک منطقی مذاکرات کی پیشرفت کی راہ میں روڑے اٹکانا ہے۔ اور وہ اس کے ذریعے وہ ایران مخالف اپنی پابندیوں اور دھمکیوں کو جائز ظاہر کرنا چاہتے ہیں۔
بلا شبہ منطقی مذاکرات کے سلسلے میں لیت و لعل سے کام لۓ جانے کی وجہ یہ ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کا معاملہ تکنیکی اور فنی حدود سے نکال کر سیاسی بنادیا گیا ہے۔ اور اس کا اعتراف یورپی ذرائع ابلاغ نے بھی کیا ہے ۔ اس سلسلے میں امریکی جریدے فارن پالیسی نے گزشتہ ہفتے ایران کے ایٹمی پروگرام کے بارے میں یورپ کے غلط رویے کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا ۔ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے مذاکرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات میں پیشرفت کی رفتار بہت سست ہے ۔ اس کے ساتھ انھوں نے تاکید کی کہ یورینیئم کی افزودگي سمیت پرامن ایٹمی پروگرام کی ترقی کے ایران کے غیر مشروط حق کو ان مذاکرات کی بنیاد قرار پانا چاہۓ۔
واضح رہے کہ گزشتہ برس ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان انقرہ ، بغداد اور ماسکو میں مذاکرات کے تین دور ہوئے تھے ۔
بعض مبصرین نے ماسکو مذاکرات کے نتیجہ خیز ہونے کی توقع ظاہر کی تھی۔ لیکن جب ماسکو ایران اور گروپ پانچ جمع ایک کے درمیان مذاکرات کے تیسرے دور کے انعقاد کی تیاری کر رہاتھا اسی دوران یورپ نے ایران مخالف پابندیوں میں شدت پیدا کردی جس کی وجہ سے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہ ہوسکے۔ اور اس سے یہ بھی واضح ہوگيا کہ یورپ مذاکرات برائے مذاکرات کا خواہاں ہے اور ظاہر سی بات ہے کہ ایسے مذاکرات نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکتے ہیں۔ اب بھی یورپی ذرائع مذاکرات کے وقت اور جگہ کے بارے میں بے بنیاد باتیں کر کے اپنی سابقہ منفی پالیسی کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ .......
/169