19 جنوری 2013 - 20:30

اندازہ ہے کہ ماہرین آثار قدیمہ نے مصر کے آخری عظیم فرعون یعنی رمسیس سوئم کی موت کا راز کھول دیا ہے۔ ان کا اندازہ ہے کہ اسے قتل کر دیا گیا تھا۔

ابنا: اٹلی کے ماہرین نے بتایا کہ کمپیوٹر ٹوموگراف کے ذریعے رمسیس سوئم کی حنوط شدہ لاش ممی کے معائنے کے دوران اس کی گردن پر ایک بڑے زخم کا نشان مل گیا۔ ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ فرعون کو کسی تیز دھار آلے سے زخمی کر دیا گیا تھا حتی کہ یہ زخم اس کی موت کی وجہ بن سکتی تھی۔رمسیس سوئم نے بارہویں صدی قبل از مسیح میں مصر پر حکمرانی کی تھی۔ تواریخ کے مطابق اس کے بیٹے اور ایک بیوی نے اسے اقتدار سے ہٹا دیا تھا۔ اب تک یہ معلوم نہیں تھا کہ سازش کرنے والوں کو فرعون رمسیس سوئم نے کو ہلاک کر دیا تھا یا نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110

واضح رہے کہ اگر رمسس سوئم سے مراد وہی ہو جو حضرت موسی علیہ السلام کے مقابلے میں آیا تھا تو قرآن مجید کی گواہی کے مطابق اس کی موت دریائے نیل میں ڈوبنے سے واقع ہوئی تھی۔