ابنا: اسرائیل کے سابق وزیر اعظم ایہود اولمرٹ نے گیارہ جنوری کو اسرائیل کے ٹی وی چینل ٹو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گذشتہ در برسوں میں اسرائیل کی توھمی سیکورٹی کے منصوبے کے بارے میں تین ارب ڈالر خرچ کئے گئے جس پر نہ عمل ہوا ہے اور نہ ہوگا۔اولمرٹ نے اگر چہ اپنے بیان میں ایران کا نام نہیں لیا لیکن اسرائیلی ذرائع ابلاغ اور تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اولمرٹ کا اشارہ ایران سے مقابلے کے لئے بنائے گئے منصوبوں پربنیامین نیتن یاہوکی طرف سےخرچ کی جانے والی رقم ہے لیکن بنیامین نے اولمرٹ کے اس بیان کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیا ہے ۔نیتن یاہو ایران کے ایٹمی مسئلہ سمیت مختلف مسائل جیسے حزب للہ لبنان اور حماس کی توانائی اور خطے کی ڈکٹیٹر حکومتوں کے خاتمے کا جائزہ لینے کے سلسلے میں بارہا توہم سے دوچار ہو ئے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ نیتن یاہو نے اسلامی بیداری کے نیتجہ میں آنے والی تبدیلیوں کو خطے میں انتہا پسند اسلام کے پھیلنے کے مترادف قرار دیا ہے اورکہا ہے کہ بعض کہتے ہیں کہ بیداری کی اس لہرکے کے سامنے تسلیم ہوکر سفید پرچم لہرا دینا چاہئیے، لیکن نیتن یاہوکی قیادت میں اسرائیل اس نظریہ کو ہرگز قبول نہیں کرے گا ۔نیتن یاہو نے گذشتہ برس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا کہ ایران دوہزار تیرہ میں موسم بہار تک ایٹم بم بناسکتا ہے اور انھوں نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ ایران کے ایٹمی پروگرام کے ریڈ لائن کھنیچ دے اور کہاکہ ایٹمی ایران سے زیادہ کوئی چیز عالمی برادری کو خطرے میں نہیں ڈال سکتی ہے ۔نیتن یاہو نے فلسطینی سر زمینوں میں غیر قانونی یہودی کالونیوں کی تعمیر کو جاری رکھنے پر اصرار کرتے ہوئے مضحکہ خیز بات کہی کہ یہودی کالونی کی تعمیر سے عالمی برادری اور علاقے کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ بلکہ ایران کی ایٹمی سرگرمیاں واقعا خطے اور عالمی برادری کے لئے بہت بڑا خطرہ ہے ۔ نیتن یاہو نے اس بارے میں بارہا بے بنیاد دعوی کئے ہیں جبکہ کم از کم تین سوایٹمی وارہیڈ کاحامل اسرائیل دنیا کی سلامتی کے لئے خطرہ شمار ہوتا ہے ۔ اسرائیلی حکام کے یہ بیانات آگے کی سمت فرار کا واضح مصداق ہیں اور خطے میں حقیقی خطرے کے آشکار ہونے کے خوف و ڈر اوراسرائیل کی جارحانہ ماہیت کی علامت ہے ۔ اولمرٹ اور نیتن یاہو کے پرپیگنڈوں کی ماہیت بھی کچھ ایسی ہی ہے جو عالمی رائے عامہ پر مخفی اور پنہاں نہیں ہے ۔لیکن ایسا لگتا ہے کہ نیتن یاہو اور اولمرٹ کہ جو چھ عشروں سے فلسطینوں پر ظلم وستم اور قتل وغارت گری کے اقدامات کرتے چلے آرہے ہیں کچھ اور مسائل سے نگراں نظر آرہے ہیں ،اسی لئے یہ دونوں انتخابات کے پس پردہ خفیہ کسی بڑے چیلنجوں کے لئے خود کو تیار کررہے ہیں ۔اسرائیل کے وزیر اعظم نے حالیہ دنوں میں اپنے متزلزل حیثیت کو مضبوط کرنے کی کافی جد وجہد اور کوشش کی ہے ۔قبل از وقت پارلمانی انتخابات کا مقصدبھی یہی ہے کہ بائیں بازوکی پا رٹی کوانتخابات میں کامیابی مل سکے لیکن صہیونی حکام کواس وقت ایسے مسائل ومشکلات کاسامنا ہے جن سے وہ فرار نہیں کرسکتے ہیں ۔حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل حد سے زیادہ ناتواں اور آسیب پذیر ہے اور اس کے حکام انتخاباتی پروپیگنڈوں کے ذریعہ موجودہ صورت حال کو تبدیل نہیں کرسکتے ہیں ۔
.......
/169