ابنا: طالبان کے سربراہ ملاعمر کے داماد ملا آغاجان معتصم نے الشرق الاوسط کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں غیرملکی افواج کی موجودگی ملک میں جنگ کے دوام کی اصل وجہ ہے اور ان افواج کا افغانستان سے انخلاء ، امن اور استحکام کے قیام میں بڑی حد تک مؤثر ثابت ہوگا۔
ملا آغاجان معتصم نے شدت پسند اور اعتدال پسند طالبان کے بارے میں کہا کہ طالبان میں ایسی کوئی گروپ بندی نہیں ہے اور طالبان میں صرف سیاسی سوچ کے لحاظ سے دو الگ نقطۂ نگاہ موجود ہے ،ایک گروپ غیرملکی افواج کو بغیر کسی سیاسی طریقۂ کار اپنانے اور صرف فوجی طریقے سے نکالنے کا حامی ہے جبکہ دوسرا گروپ، فوجی طریقے کے ساتھ سیاسی مذاکرات کا بھی قائل ہے ۔ ملا آغا جان نے اس سوال کے جواب میں کہ اگر طالبان نے حکومت سنبھال لی پھر بھی القاعدہ کی میزبانی کی جائے گی ؟ کہا کہ خطے کے عرب ممالک میں حالیہ تبدیلیوں کے باعث صورتحال بدل گئی ہے اور اس بات کی ضرورت نہیں کہ القاعدہ کے ارکان اپنا ملک چھوڑ کر کسی دوسرے ملک میں مہاجرت کریں۔
اقوام متحدہ نے 2011 میں ملا آغاجان معتصم کے نام کو بلیک لسٹ سے خارج کردیا۔
.......
/169