23 دسمبر 2012 - 20:30

بحرین کے دارالحکومت منامہ میں خلیج فارس تعاون کونسل کا سربراہی اجلاس ایسی حالت میں ہورہا ہے کہ عوام نے مختلف شہروں میں وسیع پیمانے پر مظاہرے کرکے آل خلیفہ کی ظالم حکومت کے خاتمے تک اپنی انقلابی تحریک جاری رکھنے کے عزم کا اعلان کیا ہے۔

ابنا: بحرین کے دارالحکومت منامہ میں خلیج فارس تعاون کونسل کا سربراہی اجلاس دوشنبے کو ایسی حالت میں منعقد ہوا کہ پورے ملک میں عوام نے وسیع تر مظاہرے کئے ہیں۔
مظاہرین نے پیر کو دارالحکومت منامہ سمیت تمام شہروں اور قریوں میں اپنے مظاہروں میں آل خلیفہ حکومت کے خاتمے اور عبوری حکومت کے قیام کا مطالبہ کیا۔
بحرین کے عوام نے  اپنے مظاہروں کے اختتام پر ایک بیان جاری کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ عوام نے   انقلابی تحریک کی راہ میں دسیوں شہیدوں کا نذرانہ اس لئے نہیں پیش کیا ہے کہ مطالبات پورے ہونے سے پہلے ہی اپنے گھروں کو واپس چلے جائیں اور انقلابی تحریک  کو بیچ راستے ترک کردیں۔
بحرین کے عوام نے کہا ہے کہ وہ آمریت کے خاتمے اور جمہوریت کے قیام سے کم کسی چیز پر راضی نہیں ہوں گے اور انقلابی تحریک کو کامیابی سے ہمکنار کرکے ہی دم لیں گے۔
بحرین کے عوام نے پیر کے دن کے ملک گیر مظاہروں میں اپنے ہاتھوں میں شہدائے انقلاب  اور جیلوں میں بند انقلابی کارکنوں اور رہنماؤں کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں اور تمام سیاسی قیدیوں کی فوری رہائی کے مطالبے کے ساتھ ہی شہیدوں سے ان کے راستے پرگامزن رہنے کے عہد کی تجدید کی۔
موصولہ اطلاعات کے مطابق عوام   پیر کے دن کے مظاہروں میں نعرے لگارہے تھے کہ ہم اپنے مطالبات کی تکمیل تک سکون سے نہیں بیٹھیں گے اور آل خلیفہ حکومت کے ختم ہونے تک مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔


ادھر آل خلیفہ کے سیکورٹی اہلکاروں اور سعودی فوجیوں نے منامہ، سترہ العکر، اور شہرکان سمیت مختلف علاقوں میں مظاہرین پر زہریلی گیس اور آنسو گیس کی شیلنگ اور فائرنگ کی جس میں بہت سے لوگ زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں بہت سے لوگوں کی حالت نازک بتائی گئی ہے۔
بحرین کے عوام ملک میں بنیادی سیاسی تبدیلی یعنی آل خلیفہ کی آمرانہ حکومت کا خاتمہ اور جمہوریت کا قیام چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے فروری دو ہزار گیارہ سے ان کی انقلابی تحریک جاری ہے۔
دریں اثناء آل خلیفہ حکومت کی مدد اور عوام کی سرکوبی کے لئے سعودی عرب، امارات، کویت اور قطر سمیت مختلف ملکوں کے فوجی بحرین پہنچ گئے اور خاص طور پر سعودی فوجی بحرینی عوام کی سرکوبی میں پیش پیش رہے ہیں۔
قابل توجہ بات یہ ہے کہ بحرین کی ظالم آل خلیفہ حکومت نے عوام کی غیر انسانی سرکوبی کا سلسلہ مغرب بالخصوص امریکا اور برطانیہ کی مکمل حمایت سے جاری رکھا ہے۔
رپورٹیں بتاتی ہیں کہ امریکا اور برطانیہ نے بحرین کی حکومت کو عوام کی سرکوبی کے لئے زہریلی آنسو گیس اور انواع و اقسام کے اسلحے دینے کے ساتھ ہی عوام کو کچلنے کی ٹریننگ دینے کے لئے اپنے ماہرین اور مشیر بھی بحرین بھیجے ہیں۔ لیکن عوام نے تمام تر سختیوں کے باوجود اپنی انقلابی تحریک جاری رکھی ہے اور پیر کے دن ایک بار پھر ملک گیر سطح پر وسیع مظاہرے کرکے مکمل کامیابی تک انقلابی مظاہرے جاری رکھنے کے عزم کا اعلان کیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110