18 نومبر 2012 - 20:30

عالم عرب کے نامور اہل قلم اور مشہور تجزیہ نگار فہمی ہویدی نے غزہ پر صہیونی حملے کی وجہ سے رونما ہونے والے نئے حقائق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے طنزيہ انداز سے صہیونی وزير اعظم کو لائق سپاس و تشکر قرار دیا ہے۔

 اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق عالمی عرب کے مشہور تجزیہ نگار فہمی ہویدی مصری اخبار "الشروق" میں اپنے ایک مضمون بعنوان "تیتن یاہو ہم تیرا شکریہ ادا کرتے ہیں"، کے ضمن میں لکھا ہے:بے شک غزہ پر صہیونیوں کا حملہ نیتن یاہو کی شرپسندی کا نتیجہ تھا (جس میں خوف و ہراس پھیلانا، فلسطینیوں کا قتل عام کرنا اور غزہ کا بنیادی ڈھانچہ تباہ کرنا شامل تھا) لیکن اس کے باوجود وہ لائق سپاس و تشکر ہے۔ البتہ جو لوگ نیتن یاہو کو جنگی مجرم سمجھتے اور کہتے ہیں کہ اس پر تشکر کے بجائے لعن و نفرین ہونی چاہئے، میں ان سے بھی اتفاق کرتا ہوں اور اس کو بدترین لعن و نفرین کا مستحق سمجھتا ہوں لیکن میرے اس تشکر کے لئے تین نکات ذکر کرنا لازم ہے:1۔ میرا شکریہ خون آلود اور تحقیر و نفرت سے بھرپور ہے۔2۔ بخوبی جانتا ہوں کہ ملت فلسطین ـ جس کا خون 1940 کے عشرے سے لے کر اب تک بہایا جارہا ہے، اسرائیل کی غنڈہ گردی کی قیمت ادا کررہی ہے۔ 3۔ جب میں کہتا ہو کہ آئیں اور نیتن یاہو کا شکریہ ادا کریں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ میں ان واقعات سے خوش ہوں جو رونما ہورہے ہیں تاہم غزہ کے عوام پر صہیونی حملے کے بعض مثبت پہلو بھی ہیں جن کی طرف توجہ دینا ضروری ہے۔عرب خطے کے امور پر نظر رکھنے والے مبصرین کی رائے کے مطابق اس علاقے میں 2011 سے اب تک جو انقلابات رونما ہوئے ہیں انھوں نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے لیکن ان انقلابات نے مسئلۂ فلسطین کو ترجیحات کی فہرست سے نکال باہر کیا تھا اور فلسطین کے مسائل ذرائع ابلاغ میں دوسرے اور تیسرے درجے کی خبروں میں شمار ہونے لگے تھے؛ اسی اثناء میں بعض لوگوں نے "ایران کا خطرہ" یا "فارسی دشمن" جیسی اصطلاحات کا سہارا لیا اور بعض دوسروں نے شام کے مسئلے اور شام کے نظام حکومت کے خاتمے کی طرف توجہ دینا شروع کردی اور بعض نے ایران کے اسرائیل سے بڑا اور زيادہ خطرناک دشمن قرار دیا! لیکن غزہ پر صہیونی دشمن کی وحشیانہ جارحیت کی وجہ سے فلسطین کی خبریں ایک بار پھر ذرائع ابلاغ میں پہلی شہ سرخیوں میں شائع ہونے لگیں اور فلسطین نے عرب ذرائع ابلاغ میں پہلی ترجیح کے عنواں سے اپنا اصل مقام ایک بار پھر حاصل کیا۔دلچسپ بات یہ ہے تمام عرب عوام و خواص جانتے ہیں کہ حقیقی دشمن اور بنیادی خطرہ ـ کسی بھی دوسرے فریق سے پہلے ـ اسرائیل ہے اور یہ حملہ اس بات کا سبب بن گیا ہے کہ عرب اقوام کو ایک بار پھر اپنا مطالبہ و اعتراض اور مافی الضمیر بیان کرنے کا موقع مل گيا اور اسرا ئیل کے حملے کے بعد عرب اقوام کو یہ موقع مل گیا کہ وہ اسرائیلی پالیسیوں پر اپنے غم و غصے اور غیظ و غضب و نفرت اور فلسطینی ملت سے اپنی یکجہتی کا اظہار کریں۔دوسری طرف سے مصر میں محمد مرسی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے اب تک، مصری حکام نے اسرائیل کے ساتھ محتاط رویہ اختیار کرنے پالیسی اپنائے رکھی اور اسرائیل کے ساتھ کشیدگی پیدا کرنے سے اجتناب کرتے رہے لیکن غزہ پر صہیونی جارحیت نے مصری حکام کو نسبتا دوٹوک موقف اختیار کرنے پر مجبور کیا تا کہ وہ فیصلہ کن سیاسی جواب دینے کے حوالے سے شک و تردد سے دوچار نہ ہوں۔ یہ موضوع مصری وزیر اعظم کے دورہ غزہ اور المرسی کے بیانات سے ظاہر ہوا۔ المرسی نے کہا: مصر غزہ کو اسرائیل کے مقابلے میں تنہا نہیں چھوڑے گا۔ ادھر مصر نے غزہ میں زخمی ہونے والے قلعہ بند فلسطینیوں کا خیرمقدم کرنے کی غرض سے رفح گذرگاہ کو کھول دیا۔ اگر ہم فرض کریں کہ اسرائیل نے اس حملے کے ذریعے مصری راہنماؤں کو دشوار صورت حال سے دوچار اور ان کے موقف کو پرکھنا چاہا تھا تو اب یہ ثابت ہوچکا ہے کہ مصر اسرائیل دباؤ کے سامنے سرتسلیم خم نہيں کیا اور ایسے اقدامات کے مقابلے میں محتاط موقف کا رویہ ترک کردیا۔

 تیسرا نکتہ اس ضمن میں یہ ہے کہ اسرائیل کے فضائی حملے مصر پر دباؤ بڑھانے کے لئے ہیں جس نے رفح پاس کو کھول دیا جس کے بعد غزہ کی طرف عرب اور غیر عرب حکام کے دوروں کا آغاز ہوا اور اگر یہ سلسلہ جاری رہے تو یہ غزہ کا محاصرہ مکمل طور پر ختم ہونے کا پیش خیمہ ہوسکتا ہے اور مصر اور غزہ کے تعلقات معمول پر آسکتے ہیں۔چوتھا نکتہ یہ ہے کہ فلسطینیوں کے رد عمل نے مزاحمت تحریک کی فوجی فوقیت پر سے پردہ اٹھایا اور ثابت کیا کہ مزاحمت تحریک کی قوت قابضین و غاصبین کے ساتھ جھگڑے میں ایک تاریخی موڑ ثابت ہوسکتی ہے۔ مزاحمت تحریک نے اسرائیل ایف سولہ طیارے، ڈرون طیارے (نیز ایک دوسرے طیارے اور ایک آپاچی ہیلی کاپٹر) کو گرادیا (ایک صہیونی بحری جہاز کو نشانہ بنایا) اور طویل فاصلے تک مارے کرنے والے میزائل فائر کرکے تل ابیب کو نشانہ بنایا اور یہ سب مزاحمت تحریک کی قوت کی دلیلیں ہیں جن کوسنجیدگی کے سات مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس خبر کی کوریج اسرائیلی حلقوں میں اس حد تک تھی کہ 10 لاکھ سے زائد اسرائیلیوں کو پناہگاہوں میں دبکنے پر مجبور کیا اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ اسرائیلوں نے مزاحمت تحریک کا میزائل پیغام وصول کرکے بخوبی سمجھ لیا ہے اور وہ یہ کہ جب تک صہیونی فلسطین کو اپنے قبضے میں رکھیں گے کبھی بھی حقیقی امن و سلامتی محسوس نہيں کرسکیں گے۔اسرائیل نے 1982 میں لبنان پر حملہ کیا تو یہ حملہ حزب اللہ کی تاسیس کا سبب بنا اور حزب اللہ نے چند سال بعد اسرائیل کو ذلیل کرکے رسوا کن شکست دے دی1955 میں بھی جب ایک صہیونی فوجی یونٹ نے غزہ کے نواح میں "بئرالصفا" پر حملہ کرکے 39 مصریوں، سوڈانیوں اور مصریوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا جس کے رد عمل میں مصر کے قوم پرست صدر جمال عبدالناصر نے کرنل مصطی حافظ کی سرکردگی میں فدائی یونٹ کی بنیاد کھی اور اس یونٹ نے اسرائیل میں جہادی کاروائیا کرکے 1400 صہیونیوں کو ہلاک کردیا۔اس بار بھی ہوسکتا ہے ایک تیر اسرائیل کے سینے میں پیوست ہوسکتا ہے ایسا تیر جس کی اس کو توقع نہیں کی۔.........../110