ابنا: سرینگر سے موصولہ رپورٹ کے مطابق ہندوستان کے زیرانتظام جموں وکشمیر میں حریت پسند جماعتوں کے اتحاد کل جماعتی حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی شاہ گیلانی نے کل حیدرپورہ جامع مسجد میں نماز پڑھنے کا پروگرام بنایا تھا لیکن پولیس نے انہیں حسب سابق حراست میں لے کر ہمہامہ پولیس تھانے میں نظربند کردیا۔ گرفتاری سے قبل گیلانی نے کہا کہ جموں مسلمانوں کو ایک طرح سے یرغمال بنادیا گیا ہے اور انہیں فوج، پولیس اور فرقہ پرستوں کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے، یہاں مندروں میں غیرریاستی پراسرار لوگ ڈیرہ جمارہے ہیں اور یہاں ہتھیار (Dump)کئے جارہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت ہند جموں صوبے کو کشمیر سے الگ کرکے ہندوتوا کا ایک گڑھ بنانا چاہتی ہے اور اس مقصد کے لیے یہاں مختلف طریقوں سے آبادی کے تناسب کو تبدیل کرانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ سید علی شاہ گیلانی نے خدشہ ظاہر کیا کہ جموں میں گجرات اور آسام کی طرح مسلم کُش فسادات بھڑکانے کی سازش ہورہی ہے تاکہ مسلمانوں کا یا تو قتل عام کیا جائے، یا انہیں بڑے پیمانے پر یہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور کیا جائے۔ گیلانی کے مطابق یہی وجہ ہے کہ کسی بھی آزادی پسند رہنما کو اس صوبے کا دورہ کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے اور کوئی اگر اس طرح کی کوشش کرتا بھی ہے تو اسے ٹنل سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔...../169
9 نومبر 2012 - 20:30
News ID: 363651
کشمیری حریت پسند لیڈر سید علی شاہ گیلانی نے الزام لگایا ہے کہ ہندوستان کی حکومت ، جموں صوبے کو کشمیر سے الگ کرنا چاہتی ہے اور اس مقصد کے لئے اس خطے میں فرقہ دارانہ تشدد بھڑکانے کی ایک منصوبہ بند سازش تیار کی گئی ہے –