8 نومبر 2012 - 20:30

آنحضرتۖ کی شان اقدس میں گستاخی پر مبنی فلم بنانے والے امریکی کو مشروط رہائی کے قوانین کی خلاف ورزی کرنے کے جرم میں کل ایک سال کی قید کی سزا سنائی گئی ۔

ابنا: مارک باسلی کو سنہ 2010 میں امریکہ کے ایک بینک کے ساتھہ دھوکہ دہی کے جرم کے بعد مشروط رہائی کی خلاف ورزی اور جعلی تشّخص جیسے چار الزامات کے جرم میں یہ سزا سنائی گئی ہے جسے ایک سال کی سزا ایک جیل میں کاٹنے کے بعد، چار سال تک عدالت کی نگرانی میں رہنا پڑیگا ۔ باسلی کو سنہ 2010 میں جعلی نام سے بینک اکاؤنٹس اور اے ٹی ایم کارڈز حاصل کرنے کے جرم میں 21 ماہ قید کی سزا سنائی گئی تھی ۔ اہانت آمیز فلم بنانے والے اس امریکی کو ستمبر میں اس وقت گرفتار کیا گيا تھا جب اس کی، اس توہین آمیز فلم سے پورے مشرق وسطی میں ہنگامہ اٹھہ کھڑا ہوا تھا کہ جس میں کم از کم پچاس افراد مارے گئے تھے ۔ البتہ اس امریکی کو توہین آمیز فلم کے ذریعے ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے جذبات مجروح کرنے کے جرم میں نہیں بلکہ اپنی مشروط رہائی کے قوانین کی خلاف ورزی کے جرم میں، یہ سزا سنائی گئی ہے اسلئے کہ حکومت امریکہ نے توہین آمیز فلم بنائے جانے پر اپنی مخالفت کے دعوے کے باوجود اس قسم کی فلموں کی روک تھام کیلئے عملی طور پر کوئی اقدام ہی نہیں کیا ۔ جبکہ بارک اوبامہ نے پہلی بار برسراقتدار آنے کے بعد مسلمانوں کے سلسلے میں واشنگٹن کا رویّہ تبدیل کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ پھر بھی امریکہ میں اسلام مخالف فلم تیّار کئے جانے سے، اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ وہاں وعدوں کے بالکل برعکس عمل ہورہا ہے جبکہ اس فلم کے خلاف مسلمانوں نے عالمی سطح پر احتجاجی مظاہرے کئے اور اسی سلسلے میں لیبیاء میں ہونے والے احتجاج کے نتیجے میں امریکی سفیر کو اپنے تین دیگر سفارتکاروں کے ہمراہ اپنی جان سے ہاتھہ بھی دھونا پڑا ہے ۔ اس وقت بارک اوبامہ حکومت نے اس فلم کے بارے میں لاعلمی کا اظہار کیا جبکہ اس سے قبل بھی امریکہ میں اسلام مخالف اقدامات پر کوئی رّد عمل نہیں دکھایا گیا تھا ۔ موصولہ رپورٹوں سے پتہ چلتا ہے کہ باسلی نے یہ فلم، آنحضرتۖ کی شان اقدس میں گستاخی کے مقصد سے امریکہ کے لگ بھگ سو یہودیوں کی 50 لاکھہ ڈالرز کی مدد سے بنائی ہے ۔ حقیقت امر یہ ہے کہ امریکی حکام نے آزادئی بیان کا بہانہ بناکر اس قسم کے شرمناک اقدام کی روک تھام کیلئے کوئی اقدام ہی نہیں کیا اور صرف زبانی طور پر اس کی مذمت کی جبکہ اگر مغرب میں کوئی ہولوکاسٹ کے مسئلے میں شک کا بھی اظہار کرتا ہے تو اس کے خلاف سخت کاروائی اور جیل کی سزا یہانتکہ اس کا سماجی طور پر بائیکاٹ نیز اسے ملازمت تک سے ہاتھہ دھونا پڑجاتا ہے ۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسلام مخالف کاروائیاں منجملہ توہین آمیز فلم بنائے جانے جیسے اقدامات، جو 11/ ستمبر کے واقعات کے بعد دہشتگردی کے خلاف جنگ کے بہانے شدّت اختیار کرگئے تھے اب نئی شکل اختیار کرگئے ہیں جو صرف امریکی معاشرے میں ہی انجام نہیں پارہے ہیں بلکہ امریکہ کا اسلام مخالف یہ عمل عالمی پہلو اختیار کرگیا ہے ۔ درحقیقت امریکہ کے مختلف علاقوں میں اسلام مخالف اقدامات اور مختلف طریقوں سے مسلمانوں کی ایذارسانی کا عمل آزادانہ طور پر جاری ہے اور اسلام سے خوف دلانے نیز امریکی ذرائع ابلاغ کی جانب سے مسلمانوں سے وحشت کا ماحول سازگار کئے جانے کے ساتھہ ساتھہ انجام دیئے جانے والے ان اقدامات سے، آزادی و انسانی حقوق کے دفاع کے دعویدار اس ملک یعنی امریکہ میں، مسلمانوں سے نفرت کا ماحول سازگار ہوا ہے ۔  مجموعی طور پر امریکہ میں مختلف طریقوں سے اسلام کی مخالفت ۔ اس کے خلاف پروپیگنڈہ ۔ مسلمانوں اور ان کے مقدسات کی توہین ۔ مسلمانوں کو مرعوب کرنے ۔ ان کے خلاف زہر اگلنے ۔ ان کی ایذارسانی اور ان کے ساتھہ امتیازی سلوک برتنے کے واقعات کھلم کھلا طور پرجاری ہیں اور اسی سلسلے کا ایک نمونہ، کہ جس پر مسلمانان عالم نے سخت رّد عمل کا اظہار بھی کیا، مسلمانوں کے پیارے نبی آنحضرتۖ کی شان اقدس میں گستاخی کے مقصد سے اسلام مخالف فلم کا بنایا جانا ہے ۔...../169