ابنا: آل خلیفہ کی وزارت داخلہ نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ ایک مذہبی انقلابی رہنما، پارلمینٹ کے بعض سابق اراکین ، اور ایک ماہر قانون سمیت اکتیس افراد کی شہریت ختم کی جارہی ہے اور انہیں اب بحرین کے شہری حقوق سے محروم کردیا جائے گا۔ آل خلیفہ نے جن اکتیس افراد کی شہریت ختم کرنے کا اعلان کیا ہے وہ سب کے سب شیعہ ہیں اور ان پر الزام ہے کہ انہوں نے قومی امن وسلامتی کوخطرے سے دوچار کردیا ہے۔ واضح رہے شہریت سے مراد کسی بھی ملک سے ایک فرد کے سیاسی قانونی اور معنوی تعلق کو کہتے ہیں جس کے تحت اسے حقوق حاصل ہوتے ہیں اور اسکی بنا پر حکومت اور فرد پر کچھ ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ گرچہ قانونی لحاظ سے شہریت ایک زوال ناپذیر امر ہے جسے کسی بھی ملک کےباشندوں سے الگ نہیں کیا جاسکتا لیکن حکومتیں صرف اسی صورت میں شہریت سلب کرسکتی ہیں جبکہ اس اقدام کو عوام کی مخالفت کا سامنا نہ ہو۔ بنابرین آل خلیفہ کی جانب سے بحرین کے ا کتیس افراد کی شہریت سلب کرنا کیا صحیح ہے؟ اس پر متعدد سوالات اٹھ رہے ہیں اور کیا آل خلیفہ کو یہ صلاحیت حاصل ہےکہ وہ بحرین کے باشندوں کی شہریت سلب کرے؟ جب سےبحرین میں عوامی تحریک شروع ہوئي ہے آل خلیفہ نے بحرین کی انقلابی ملت کے خلاف سیاسی اور قانونی لحاظ سے ہرممکن سازش کرڈالی ہے کہ ملت بحرین اپنی تحریک سے ہاتھ کھینچ لے، ملت بحرین کے نہتے افراد کو گرفتار کرکے قید میں ڈال دینا، انہیں جیلوں میں نہایت غیر انسانی طریقوں سے جسمانی اور ذہنی ایذائيں پہنچانا، کام سے نکال دینا، ملازموں کو ان کے حقوق سے محروم کردینا، اپنے کارندوں کے ہاتھوں زخمی ہونےوالے افراد کے علاج کی ممانعت، عوام کے گھروں پرحملہ کرکے خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنانا، عوام پر زہریلی گيسوں سے حملے کرنا آل خلیفہ کے غیر انسانی اور مجرمانہ اقدامات میں شامل ہیں۔ ملت بحرین کے خلاف آل خلیفہ کے غیر قانونی اور انسانی حقوق کے خلاف اقدامات اس بات کو بیان کرتےہیں کہ آل خلیفہ کو بحرینی عوام بھر پور طرح سے مسترد کرچکےہیں اور یہ حکومت اب قانونی جواز کھوبیٹھی ہے اور شہریوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنےکی صلاحیت نہیں رکھتی ۔ آل خلیفہ کی شاہی حکومت انقلابیوں کو شہریت سے محروم کرکے اپنے خاص امتیازی اور سیاسی اھداف حاصل کرنا چاہتی ہے، سیاسی لحاظ سے آل خلیفہ کی حکومت ایک زمانے سے بحرین کی شیعہ اکثریت کے خلاف سازشیں کرکے ان کی آبادی کا تناسب بگاڑنے کی کوشش کررہی تا کہ شیعہ مسلمانوں کو جو کہ اس سرزمیں کے اصلی باشندے ہیں اکثریت حاصل نہ رہے۔ بحرین کی حکومت کئی برسوں سے دیگر ملکوں کے شہریوں کو بحرین لاکر انہیں شہریت دے رہی ہے اور اب اس نے شیعہ مسلمانوں کی ا کثریت ختم کرنےکے لئے اپنی اس نسل پرستانہ پالیسی کو نیا رنگ دے دیا ہے۔ ماہرین کا خيال ہےکہ آل خلیفہ کی یہ پالیسی مکمل طرح سے صیہونی حکومت کی امتیازی اور مجرمانہ پالیسیوں سے ملتی جلتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شہریت سلب کرنے کی آل خلیفہ کی پالیسی بنیادی طورسے غیر قانونی ہے کیونکہ بے بنیاد بہانوں سے کسی باشندے کی بھی شہریت سلب نہیں کی جاسکتی۔ آل خلیفہ کا دوسرا ہدف یہ ہےکہ وہ صرف شیعہ مسلمانوں کی شہریت سلب کرکے یہ ظاہرکرنا چاہتی ہےکہ بحرین میں صرف شیعہ ہیں جو اس کےمخالف ہیں جبکہ حقیقت کچھ اور ہی ہے ساری ملت بحرین خواہ شیعہ ہوں یا سنی سب آل خلیفہ کی ڈکٹیٹر حکومت کےخلاف ہیں بس فرق اتنا ہےکہ بحرین کی اکثریت شیعہ مسلمانوں پر مشتمل ہے جو آل خلیفہ، سعودی عرب اور ان کے سامراجی آقا امریکہ اور صیہونی حکومت کو قابل قبول نہیں ہے۔ ملت بحرین کی انقلابی تحریک کو آل خلیفہ نے سارے جتن کرکے شیعہ تحریک ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے لیکن خدا کے فضل و کرم سے اسکی یہ سازشیں ناکام ہوچکی ہیں۔ ادھر آل خلیفہ ایسے عالم میں انقلابی رہنماوں پر قومی سلامتی کوخطروں سے دوچار کرنے کے الزام لگارہی ہے کہ اس نے انسانی حقوق کے احترام کے سلسلے میں عالمی کنونشنوں اور معاہدوں کو پامال کررکھا ہے اور شہریوں کے حقوق کو نظر انداز کررہی ہے۔ واضح رہے آل خلیفہ نے کئي دہائيوں سے بحرین کی اکثریت کو اس کے حقوق سے محروم کررکھا ہے اور اس غرض سے سعودی عرب سے بھی فوجی اور سیاسی مدد لے رہا ہے۔ آل سعود جس کے سامراج اور صیہونیت کے اتحادی ہونے کے بارے میں کسی طرح کا شک و شبہ نہیں حقیقی اسلام کا کٹر دشمن سمجھا جاتا ہے۔ آل سعود نے آل خلیفہ کو فوجی مدد کر انقلابیوں کی سرکوبی میں نہایت منفی کردار ادا کیا ہے۔ اس وقت سعودی عرب کے جارح فوجی آل خلیفہ کے ساتھ مل کر نہتے بحرینی عوام کو کچلنے میں مشغول ہیں۔ سعودی عرب کے ان علاقوں میں جہاں شیعہ مسلمان بستے ہیں کیا مفادات ہوسکتے ہیں اور آل سعود مختلف طرح سے ان علاقوں میں کیوں سرگرم عمل دکھائي دیتی ہے؟اس سوال کا جواب یہ ہے کہ بوڑھے سامراج نے آل سعود کو نیا دین دے کر یہ ذمہ داری سونپی تھی کہ وہ ساری دنیا میں اسلام حقیقی سے مقابلہ کرے گي اور اپنے پیسے اور سامراج و صیہونیت کی بھر پور حمایت سے مسلمانوں میں تفرقے ڈالنے اور اختلافات پھیلانے کے لئے کوئي دقیقہ فروگذاشت نہیں کرے گي اور وہ اسلام کے نام پر کفر و شرک و نفاق کے مقاصد حاصل کرنے کےلئے اس جگہ سرگرم عمل دکھائي دے گي جہاں اھل حق کا بول بالا ہے۔ اسلامی بیداری کی مخالفت اور اس عوامی تحریک کو منحرف کرنے میں امریکہ اور صیہونی حکومت کا بھر پور ساتھ دینا اس بات کو ثابت کردیتا ہےکہ ال سعود نے ظاہری طور پراسلام کا لباس پہنا ہوا ہے اور اس کا بنیادی ھدف اسلام کو مٹانا ہے۔ آل خلیفہ میں اتنی سکت اور توانائي نہیں تھی کہ وہ عوام کی انقلابی تحریک کا مقابلہ کرسکتی لھذا آل سعود نے بحرین میں عوامی تحریک کی لہروں کو اپنے ملک کی طرف بڑھتےہوئے دیکھ کر اپنی فوجیں بحرین بھیج دیں جس کے نتیجے میں آل خلیفہ کی شاہی حکومت کو سہارا مل گيا اور اس نے ملت بحرین کے حقوق نہایت ہی بے شرمی سے پامال کرنا شروع کردئے۔ دراین اثنا بحرین کی مختلف انقلابی اور عوامی تحریکوں نے عالمی برادری سے اپیل کی ہےکہ وہ آل خلیفہ کے ظالمانہ اقدامات کی مذمت کرکے ان پرروک لگانے کی کوشش کریں اور ملت بحرین کے حقوق کے احترام کو یقینی بنائيں۔ امریکہ، مغربی ممالک، صیہونی حکومت اور علاقے میں امریکہ اور صہیونی ریاست کے پٹھو ممالک ملت بحرین کی انقلابی تحریک کو اپنے فائدے میں نہيں دیکھ رہےہیں اور چاہتے ہیں کہ کسی نہ کسی طرح سے اس تحریک کو کچل کر دیگر تحریکوں کو کچلنے کا راستہ ہموار کریں۔ جس طرح سے بحرین میں عوامی تحریک جاری ہے سعودی عرب میں بھی جاری ہے لیکن آل سعود وحشیانہ طریقے سے عوامی تحریک کو کچل کر ملت کی آواز کو پہلے مرحلے میں ہی دبا دیتی ہے اور چونکہ مغربی ملکوں کے مفادات بحرین سے وابستہ ہیں لھذا انہوں نے بحرین کے انقلاب پر خاموشی اختیار کرلی ہے اور چونکہ شام کی حکومت ان کے لئے نقصان دہ ہے تو شام کے خلاف دہشتگردوں کو مسلح کرکے تباہی مچانے کے لئے بھیج دیا گيا ہے۔ ملت بحرین کی تحریک سے اتنا فائدہ تو ضرور ہوا ہےکہ مغرب اور اسکے پٹھو عرب ملکوں کا دوغلہ چہرہ سامنے آگيا ہے۔...../169
7 نومبر 2012 - 20:30
News ID: 363220
بحرین کی شاہی حکومت نے ایک بار پھر اپنی ظالمانہ اور نسل پرستانہ پالیسیوں کو آگے بڑھاتے ہوئے اعلان کیا ہےکہ وہ اکتیس انقلابی رہنماؤں کی شہریت ختم کرنے جارہی ہے۔