ابنا: ملکي اور غير ملکي دباؤ ميں آکر سعودي حکومت نے ان گيارہ خواتين کو جنھيں اس نے گذشتہ سنيچر کو صوبہ القصيم ميں دھرنے پربيھٹنے کے جرم ميں گرفتار کرليا تھا رہا کرديا ہے -
سعودي عرب کي سيکورٹي فورس کے اہلکاروں نے گذشتہ سنيچر کو جيلوں ميں بند قيديوں کے اہل خانہ پر جو اپنے عزيزوں کي رہائي کي مانگ کولے کر القصيم صوبے کے شہر بريدہ کي عدالت کي عمارت کے باہر دھرنے پر بيٹھے ہوئے تھے حملہ کرديا تھا اوران ميں سے متعدد افراد کو گرفتار کرليا تھا –
دھرنے پر بيٹھے لوگ اپنے رشتہ داروں کي فوري رہائي کامطالبہ کررہے تھے جو گذشتہ کئي برسوں سے کسي بھي طرح کے مقدمات کا سامنا کئے بغير جيلوں ميں بند ہيں –
انساني حقوق کي تنظيم نے سعودي حکام سے کہا ہے کہ وہ عوامي مظاہروں ميں شرکت کے جرم ميں لوگوں کو گرفتار کرنے سے باز آجائيں - دوسري طرف خود سعودي عرب ميں انساني حقوق کي تنظيموں منجملہ حسم نامي انساني حقوق کي تنظيم نے اپني رپورٹ ميں کہا ہے کہ جن لوگوں کو اپنے مطالبات بيان کرنے کے الزام ميں گرفتار کرکے جيلوں ميں بند کرديا گيا ہے ان کي تعداد تيس ہزار سے بھي زيادہ ہے ليکن سعودي وزارت داخلہ نے ابھي تک جيلوں ميں بند اس طرح کے قيديوں کي صحيح اعداد وشمارنہيں بتائي ہيں –
واضح رہےکہ سعودي عرب کے مختلف شہروں ميں گذشتہ ايک برس سے پرامن عوامي مظاہرے جاري ہيں- يہ مظاہرے ملک ميں تفريق آميز پاليسيوں کو ختم کئےجانے اور ايک عوامي حکومت کو برسر اقتدار لائے جانے کےحق ميں کئے جارہے ہيں مگر سعودي حکومت ان پرامن مظاہروں کو طاقت کے ذريعے کچل دينے کي کوشش کرتي ہے.
.....
/169
سعودي عرب کي سيکورٹي فورس کے اہلکاروں نے گذشتہ سنيچر کو جيلوں ميں بند قيديوں کے اہل خانہ پر جو اپنے عزيزوں کي رہائي کي مانگ کولے کر القصيم صوبے کے شہر بريدہ کي عدالت کي عمارت کے باہر دھرنے پر بيٹھے ہوئے تھے حملہ کرديا تھا اوران ميں سے متعدد افراد کو گرفتار کرليا تھا –
دھرنے پر بيٹھے لوگ اپنے رشتہ داروں کي فوري رہائي کامطالبہ کررہے تھے جو گذشتہ کئي برسوں سے کسي بھي طرح کے مقدمات کا سامنا کئے بغير جيلوں ميں بند ہيں –
انساني حقوق کي تنظيم نے سعودي حکام سے کہا ہے کہ وہ عوامي مظاہروں ميں شرکت کے جرم ميں لوگوں کو گرفتار کرنے سے باز آجائيں - دوسري طرف خود سعودي عرب ميں انساني حقوق کي تنظيموں منجملہ حسم نامي انساني حقوق کي تنظيم نے اپني رپورٹ ميں کہا ہے کہ جن لوگوں کو اپنے مطالبات بيان کرنے کے الزام ميں گرفتار کرکے جيلوں ميں بند کرديا گيا ہے ان کي تعداد تيس ہزار سے بھي زيادہ ہے ليکن سعودي وزارت داخلہ نے ابھي تک جيلوں ميں بند اس طرح کے قيديوں کي صحيح اعداد وشمارنہيں بتائي ہيں –
واضح رہےکہ سعودي عرب کے مختلف شہروں ميں گذشتہ ايک برس سے پرامن عوامي مظاہرے جاري ہيں- يہ مظاہرے ملک ميں تفريق آميز پاليسيوں کو ختم کئےجانے اور ايک عوامي حکومت کو برسر اقتدار لائے جانے کےحق ميں کئے جارہے ہيں مگر سعودي حکومت ان پرامن مظاہروں کو طاقت کے ذريعے کچل دينے کي کوشش کرتي ہے.
.....
/169