ابنا: امير کويت شيخ صباح الاحمد الجابر الصباح نے منگل کے روز ايک تقرير ميں کہا ہے کہ جو بھي ملک کا امن و امان اور ثبات و استحکام درہم برہم کرنے کي کوشش کرے گا اور قانون شکني کا مرتکب ہوگا اس سے سختي سے نمٹاجائے گا- انہوں نے کہا کہ کويت کے عوام کے سامنے دو راستے ہيں ايک يہ ہے کہ ملک ميں بقول ان کے قانون کي حکمراني اور امن و امان ہو اور دوسرا راستہ قانون شکني اور بدامني کا ہے ليکن قانون شکني کي اجازت نہيں دي جائے گي –
قابل ذکر ہے کہ کويت ميں سياسي بحران ميں اس وقت شدت آگئي جب امير کويت نے ملک کے انتخابات کے نظام کو ناقص قرار ديتے ہوئے قانون انتخابات ميں ترميم کا فرمان جاري کيا –
حزب اختلاف کي جماعتوں نے اس فرمان کي مخالفت کرتے ہوئے نئے قانون کے تحت ہونے والے انتخابات کے بائيکاٹ کا اعلان کيا –
حزب اختلاف کي جماعتوں کا کہنا ہے کہ اب ان کے مطالبات صرف قانون انتخابات ميں ترميم کا فيصلہ واپس لينے کے مطالبے تک محدود نہيں ہيں بلکہ وہ ملک ميں جمہوريت چاہتے ہيں –
.....
/169
قابل ذکر ہے کہ کويت ميں سياسي بحران ميں اس وقت شدت آگئي جب امير کويت نے ملک کے انتخابات کے نظام کو ناقص قرار ديتے ہوئے قانون انتخابات ميں ترميم کا فرمان جاري کيا –
حزب اختلاف کي جماعتوں نے اس فرمان کي مخالفت کرتے ہوئے نئے قانون کے تحت ہونے والے انتخابات کے بائيکاٹ کا اعلان کيا –
حزب اختلاف کي جماعتوں کا کہنا ہے کہ اب ان کے مطالبات صرف قانون انتخابات ميں ترميم کا فيصلہ واپس لينے کے مطالبے تک محدود نہيں ہيں بلکہ وہ ملک ميں جمہوريت چاہتے ہيں –
.....
/169