4 نومبر 2012 - 20:30

بحرين ميں علما کي کونسل کے سربراہ نے مظاہروں پر پابندي عائد کرنے کے بحريني حکومت کے فيصلے کي مذمت کي ہے -

ابنا: بحرين کے بزرک عالم دين شيخ عيسي قاسم نے دار الحکومت منامہ کي امام صادق جامع مسجد ميں نماز جمعہ کے خطبوں ميں کہا کہ تمام مطالبات پورے ہو نے تک عوام کے مظاہرے جاري رہيں گے اور مظاہروں پر پابندي آئين کے خلاف ورزي اور آزادي اظہار خيال کے سلسلے ميں تنزلي کے برابر ہےـ 
آيت اللہ شيخ عيسي احمد قاسم نے کہا کہ وزارت داخلہ نے يہ فرمان جاري کرکے در حقيقت شريف بسيوني تحقيقاتي کميٹي کي رپورٹ اور اقوام متحدہ کي انساني حقوق کي کونسل کي سفارشات کو نظر انداز کيا ہےـ 
بحرين ميں چودہ فروري سنہ دو ہزار گيارہ سے آل خليفہ حکومت کے خلاف عوام کي تحريک جاري ہے، بحريني فورسز سعودي افواج کي مدد  سے اس تحريک کو کچلنے کي کوشش کر رہي ہيں جس کے نتيجے ميں اب تک سيکڑوں افراد شہيد اور زخمي ہو چکے ہيں ـ
انساني حقوق کي تنظيموں کا کہنا ہے کہ متعدد مظاہرين کو قيد کرنے کے بعد جيلوں ميں ايذائيں ديکر شہيد يا جسماني طور پر معذور کر ديا گيا جب کہ فورسز کي جانب سے استعمال کي جانے والي زہريلي آنسو گيس کي وجہ سے اسقاط حمل کے متعدد واقعات پيش آئے ہيں –
.....
/169