3 نومبر 2012 - 20:30

مشرق وسطی میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کیمشن کے نمائندے ہیثم ابو سعید نے کہا ہے کہ شام میں پچانوے فیصد مسلح دہشت گرد غیر شامی جبکہ صرف پانچ فیصد شامی ہیں۔

ابنا: اطلاعات کے مطابق ہیثم ابو سعید نے شام میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات میں قطر سعودی عرب اور ترکی کے ملوث ہونے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ شام میں ہونے والی دہشت گردی میں قطر اور سعودی عرب کا ہاتھ بہت ہی واضح ہے اور وہ میڈیا کے ذریعے واضح طور پر اس کا اعلان بھی کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ قطر سعودی عرب اور ترکی شام میں بہنے والے خون کے ہر قطرے کے ذمہ دار ہیں اور عالمی برادری کو چاہیے کو وہ ان ممالک کو شامی دہشت گردوں کی حمایت کرنے اور انہیں ہتھیار فراہم کرنے سے روکے۔

ادھر امریکہ میں ایک جنگ مخالف سرگرم کارکن رچرڈ بیکر نے کہا ہے کہ شام میں لڑنے والے جنگجو امریکی ایجنٹ ہیں۔ انہوں نے پریس ٹی وی سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ شام کے بارے میں امریکہ کا رویہ انتہائی متکبرانہ ہے۔ ہلیری کلنٹن بہت ہی تکبر کے ساتھ شام میں حکومت کی تبدیلی کی بات کرتی ہیں گویا ان کے پاس شامی مخالفین کی قیادت ہے اور جنگجو ان کی کٹھ پتلیاں ہیں۔.......

/169