ابنا: اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے بحرین میں مظاہروں پر پابندی کے بارے میں خبر دار کیا ہے ۔فرانس کی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بان کی مون کے ترجمان مارٹین نسیرکی نے گذشتہ روز اعلان کیا ہے کہ بان کی مون کا کہنا ہے کہ بحرین میں مظاہروں کو ممنوع قرار دئیے جانے سے اس بات کا امکان ہے کہ خلیج فارس کے ممالک میں کشیدگی بڑھ جائے گی ۔ بان کی مون کے ترجمان نے تاکید کی ہے کہ حکومت بحرین لوگوں کے اجتماع اور آزادی بیان کا خیال رکھے ۔مارٹین نسیرکی نے بحرین میں مظاہروں پر عائد پابندی کو فورا ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے ،اس سے قبل بدھ کے دن ایمنسٹی انٹر نیشنل نے عوامی مظاہروں پر پابندی عائد کرنے کے بحرینی حکومت کے فیصلے پر شدید تنقید کی تھی ۔ بحرینی وزارت داخلہ نے تیس اکتوبر کو ملک کے کسی بھی حصے میں مظاہروں پر پابندی عائد کردی تھی ۔
یورپ سمیت عالمی رائے عامہ نےبحرینی وزارت داخلہ کی طرف سے مظاہروں پر پابندی کے فیصلے پر تنقید کی ہے یہی وجہ ہے کہ یورپی ممالک جو آل خلیفہ حکومت کے حامی ہیں وہ بھی آل خلیفہ کے اقدامات کے خلاف زبان کھولنے پر مجبور ہو گئے ہیں
المنار ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ اور برطانیہ سمیت کئی یورپی ممالک نے مظاہروں پر پابندی کے آل خلیفہ حکومت کے فیصلے پر تنقید کی ہے۔گارڈین اخبار نے بھی اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ آل خلیفہ حکومت کو اس حوالے سے اعتراضات کا سامنا ہے۔مجموعی طور پر بحرین کے عوام نے ان پابندیوں کو مسترد کر دیا ہے اور بحرین میں سیاسی اصلاحات ۔جمہوری حقوق اور سماجی اور اقتصادی حقوق کے لئے عوام کے احتجاج کا سلسلہ جاری ہے
ادھربحرین کے انسانی حقوق مرکز نے کہا ہے کہ آل خلیفہ حکومت بحرینی قوم کی آزادی و سلامتی کے خطرے میں تبدیل ہوگئی ہے۔العالم ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بحرین کے انسانی حقوق مرکز نے ایک بیان جاری کرکے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ بحرین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی سے چشم پوشی نہ کی جائے۔مذکورہ بیان میں کہا گیا ہے کہ بحرین میں مظاہروں اور اجتماعات کے انعقاد پر پابندی حققیت میں ایمرجنسی کا پھر سے آغاز ہے اور یہ ملکی آئین کی اٹھائیسویں اور انسانی حقوق کے چارٹر کی اکیسویں شق کی کھلی خلاف ورزی ہے۔.....
/169