ابنا: اسلامی تعاون تنظیم کے سیکرٹری جنرل اکمل الدین احسان اوغلو نے اتوار کو ایک بیان جاری کرکے میانمار کے صوبۂ راخین کےمسلمانوں پر منظم انداز میں کۓ جانے والے تشدد کو انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزی قراردیتے ہوئے اسکی شدید مذمت کی۔ اکمل الدین احسان اوغلو نے اس بیان میں میانمار کے حکام سے مسلمانوں پر کۓ جانے والےتشدد کے خاتمے اور اس سلسلے میں فوری اقدامات انجام دیۓ جانے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے میانمار کے مسلمانوں کو فوری امداد فراہم کرنے پر "او آئي سی" کی آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میانمار کی حکومت، مسلمانوں پر حملوں کی وجوہات دریافت کرکے اس مسئلے کا فوری حل نکالے - میانمار کی ریاست راخین میں اتوار سے شروع ہونے والی جھڑپوں میں اب تک 100سے زائد افراد ہلاک ہو گئے۔ فسادات کے باعث برمی مسلمانوں نے عید الاضحٰی نہ منانے کا فیصلہ کیا تھا۔ رات کے وقت جاری رہنے والے کرفیو کے باوجود تشدد کے واقعات ہوئے ۔اقوام متحدہ نے میانمار میں فسادات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ریاست راخین کے سرکاری ترجمان نے برطانوی میڈیا کو بتایا کہ اتوار سے شروع ہونے والی جھڑپوں میں اب تک 112افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔اس دوران ایک ہزار گھر بھی جلا دیے گئے۔تشددکے واقعات کے بعد من بیا اور مرای او نامی قصبوں میں کرفیو لگا دیا گیا ہے۔ ادھر اقوامِ متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ ملک کے مغربی علاقوں میں نسلی فسادات میں ہلاکتوں میں اضافہ حکومت کی جانب سے اصلاحات کے عمل کے لیے نقصان دہ ہے۔اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے دفتر سے جاری شدہ بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقے میں اشتعال انگیز تقاریر‘ دھمکیوں اور ہدف بنا کر حملوں کا سلسلہ فوری طور پر رک جانا چاہیے۔بیان کے مطابق اگر ایسا نہ ہوا تو برما کی حکومت کی جانب سے ملک میں اصلاحات کی کوششیں خطرے میں پڑ جائیں گی۔ سامعین آئیے سنتے ہیں پاکستان کے سینئیر تجزیہ نگار پروفیسر شمیم اختر اس صورت حال پر کیا تبصرہ کر رہے ہیںانٹرویو سننے کے لئے نیچے میڈیا پلیئر پر کلک کیجئے برما یا میانمار اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بنا جب یہاں اکثریتی بودھ آبادی نے مسلمان اقلیت کا بدترین قتل عام کیا اور اس قتل عام کی جو تصویریں میڈیا میں آئیں اس نے عالمی ضمیر اور بالخصوص مسلم دنیا کے اجتماعی ضمیر کو جھنجوڑ کر رکھ دیا۔ہزاروں روہنگیا مسلمان اس بے دردی سے قتل کیے گئے کہ عالمی جنگوں کی یاد تازہ ہوگئی۔جلے اور مرے ہوئے انسانوں کے ڈھیر چیخ چیخ کر اس بات کا اعلان کر رہے تھے کہ انسان نے صرف مادی ترقی کی ہے ذہنی اعتبار سے وہ آج بھی درندہ ہے۔جو وحشت پر تل جائے تو جنگل کے درندے بھی شرمسار ہونے لگتے ہیں۔روہنگیا مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نقل مکانی پرمجبور ہوئی اور ہمسایہ ملکوں نے انہیں اپنی حدود میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کر ایک اور ظلم ڈھایا۔خدا جانے اسلامی ملکوں کی تنظیم او آئی سی کا ضمیر کیسے جاگ پڑا کہ اس نے روہنگیا مسلمانوں کی مدد کے لیے برما میں دفتر کھولنے کی اجازت طلب کی ۔اس درخواست کو غور و خوض کے بعد برمی حکومت نے یہ کہہ کر پائے حقارت سے ٹھکر ا دیا کہا حکومت کا یہ اقدام عوامی خواہشات کے خلاف ہے اس لیے او آئی سی کو یہاں دفتر کھولنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اس سے پہلے ہزاروں بودھ بھکشووں نے او آئی سی کی اس درخواست کے خلاف احتجاج بھی کیا تھا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ برما میں بودھ اکثریت کو یہ گوارہ نہیں کہ وہاں مسلمان اقلیت پر ڈھائی جانے والے مظالم کو جانچنے اور پرکھنے کے لیے کسی بیرونی تنظیم کا دفتر ہی کھلے ۔حالانکہ یہ دفتر نیٹو کے کسی فوجی بیس یا امریکا کے اسلام آباد کے سفارت خانے کی طرح کوئی بڑی چھاونی نما نہیں ہوتا اور نہ اس میں او آئی سی سے وابستہ ملکوں کے فوجی تعینات ہوتے۔او آئی سی کو اس طرح کا مینڈیٹ بھی حاصل نہیں ۔زیادہ سے زیادہ اتنا ہوتا کہ یہ ایک مانیٹرنگ کا دفتر ہوتا جو اپنی رپورٹ کبھی کبھار او آئی سی کے مرکزی ہیڈ کوارٹر کو جدہ میں بھیجتا ۔برما کی حکومت نے اپنے عوام کی خواہشات کا سہارا لے کر یہ بے ضرر سا دفتر کھولنے سے صاف انکار کیا۔...../169
29 اکتوبر 2012 - 20:30
News ID: 360735
اسلامی تعاون تنظیم نے ایک بار پھر میانمار کے مسلمانوں پر کۓ جانے والے تشدد کی مذمت کی ہے۔