29 اکتوبر 2012 - 20:30

سعودي عرب کے بادشاہ کي جانب سے مظاہرين کي سرکوبي کے کھلے احکامات کے باوجود شاہي حکومت کے خلاف عوامي مظاہروں کا سلسلہ بدستور جاري ہے-

ابنا: امت اسلامي سميت سعودي عرب کي مختلف سياسي تنظيموں اور جماعتوں نے عوام سے اپيل کي ہے کہ وہ آئندہ جمعے کو شاہي حکومت کي جيلوں ميں بند سياسي قيديوں کي فوري رہائي کے لئے مظاہرے کريں-
امت اسلامي کے باني رکن شيخ محمد بن سعد آل مفرح نے  سعودي عرب ميں گرفتارکئے جانے والے سياسي قيديوں سے اظہار يکجہتي کرتے ہوئے عوام سے  جمعے کو ملک گير سطح پر احتجاجي مظاہروں ميں شرکت کي اپيل کي ہے-
  دوسري جانب عرب يوتھ نامي تنظيم نے مشرقي شہر الخبر ميں سياسي قيديوں کي رہائي کے حق ميں مظاہرے کئے ہيں-
مظاہرين، سياسي کارکنوں کي گرفتاريوں کي مذمت ميں نعرے لگا رہے تھے اور انکا مطالبہ تھا کہ پرامن مظاہروں ميں شرکت کے الزام ميں سياسي کارکنون کي  گرفتاريوں کا سلسلہ فوري طور پر بند ہونا  چاہيے-
مظاہرين نے اس عزم کا بھي اظہار کيا کہ وہ اپنے جائز مطالبات پورے ہونے تک آل سعودي خاندان کي حکومت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاري رکھيں گے-
مشرقي سعودي عرب کے ديگر شہروں العواميہ اور القطيف کے عوام نے بھي  عيد الضحي کے ايام کي مناسبت سے  انقلاب کے راستے ميں شہيد ہونے والوں کي قبروں پر حاضري دي  اور ان کے مشن کو جاري رکھنے کا عہد کيا ہے -
سعودي عرب ميں احتجاج اور مظاہروں ميں ايسے وقت ميں شدت آئي ہے جب ملک کے بادشاہ ملک عبداللہ نے  ہرقسم کے مظاہروں کو طاقت کے بل پر کچلنے کے سخت احکامات جاري کئے ہيں- ملک عبداللہ بن عبدالعزيز نے ملک کے  اعلي فوجي افسران کے ساتھ ايک ملاقات کے دوران کہا ہے کہ خطے کے حالات اور سعودي عرب کي سيکورٹي کو درپيش خطرات کے پيش نظر مسلح افواج کو ہر قسم کي  بدامني کا مقابلہ کرنے کے لئے تيار رہنا چاہيے-
  ايک اور اطلاع يہ ہے  کہ انساني حقوق کي عالمي تنظيم  ہيومن رائٹس واچ نے مظاہرين کے خلاف سعودي حکومت کے وحشيانہ اقدامات کي مذمت کي ہے- مشرق وسطي سے  متعلق ہيومن رائٹس واچ کے ڈائريکٹر جو اسٹورک نے مظاہرين کے  خلاف تشدد کا سلسلہ بند کرنے کي اپيل کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سعودي عرب پرامن مظاہرين کے مطالبات پورے کرنے کےبجائے انہيں سزا دينے پر تلي ہوئي ہے-
انہوں نے کہا کہ سعودي حکومت لوگوں کو صرف اپنے مطالبات کو پرامن طريقے سے بيان کرنے کي وجہ سے گرفتار کرکے  سزائيں دے رہي ہے- ہيومن رائٹس نے مطالبہ کيا ہے کہ سعودي حکومت کو امن پسند مظاہرين کے خلاف ملکي عدليہ کو استعمال کرنے کا سلسلہ ترک کرتے ہوئے يہ بات تسليم کرلينا چاہيے کہ پرامن مظاہرے کرنا کوئي جرم نہيں ہے-
سعودي عرب کے مختلف علاقوں ميں گزشتہ دوسال سے مظاہروں کا سلسلہ جاري ہے اور لوگ ملک ميں سياسي سماجي اور مذہبي بينادوں پر روار کھے جانے والے امتيازي سلوک کے خاتمے اور جمہوري حکومت کے قيام کا مطالبہ کررہے ہيں-
آل سعود کي حکومت نے عوامي مطالبات پر توجہ دينے کے بجائے مظاہرين اور سياسي کارکنوں کي گرفتاريوں، اور انہيں جيل ميں ايذائيں  پہنچانے کي پاليسي اپنا رکھي ہے-
انساني حقوق کے عالمي اداروں کي جانب سے سعودي عرب ميں مظاہريں کے ‍ خلاف روا رکھے جانے والے تشدد آميز رويئے پر ايسے وقت ميں نکتہ چيني کي جارہي ہے جب مغربي  ملکوں کے حکام اور انساني حقوق کے دعويداروں نے اس پر خاموشي اختيار کر رکھي ہے-
.....
/169