24 اکتوبر 2012 - 20:30

شام کے امور میں اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی اخضر ابراہیمی نے کہا ہے کہ شام کی حکومت نے عیدالضحی کے موقع پر فائر بندی کے نفاذ سے اتفاق کرلیا ہے ۔

ابنا: اخضر ابراہیمی نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ چار روزہ فائر بندی، اس تشّدد کے خاتمے کا پیش خیمہ ثابت ہوگی کہ جس سے گذشتہ انّیس مہینوں سے شام دوچار ہے ۔ البتہ شام کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اس سلسلے میں حتمی فیصلہ کل کیا جائیگا ۔ اس سے قبل اپریل کے مہینے میں بھی شام کے امور میں اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے اس وقت کے خصوصی ایلچی کوفی عنّان کے چھے نکاتی امن منصوبے کی بنیاد پر شام میں فائر بندی کا نفاذ عمل میں آيا تھا مگر یہ فائر بندی عملی طور پر کامیاب ثابت نہ ہوسکی اور تشّدد کا سلسلہ پھر شروع ہوگیا تاہم اس وقت شام کے امور میں اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے موجودہ خصوصی ایلچی اخضر ابراہیمی کو اس بات کی امید ہے کہ یہ فائر بندی، شام کے بحران کے حل سے متعلق سیاسی عمل کے آغاز کیلئے مددگار ثابت ہوگی ۔ دریں اثنا روس نے ایکبار پھر مغربی ملکوں اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے شام کے حکومت مخالفین کو ہتھیار فراہم کئے جانے پر تنقید کی ہے ۔ روس کے چیف آف آرمی اسٹاف نیکلائی ماکاروف نے شام کے حکومت مخالفین کے پاس زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں منجملہ امریکی ساخت کے اسٹینگر میزائیلوں کی موجودگی کے بارے میں تحقیقات کی ضرورت پر تاکید کی ہے ۔ اس سے قبل روس کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی کہا تھا کہ ماسکو،ترکی کی اسکندرون بندرگاہ کے ذریعے شام کے حکومت مخالفین کو ہتھیار فراہم کئے جانے کے بارے میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی پابندیوں کی کمیٹی کی تحقیقات پر مکمل نظر رکھے ہوئے ہے ۔ جبکہ ترکی نے بھی اسی طرح کے الزام کے تحت، شام کے طیارے کو جو ماسکو سے دمشق جارہا تھا زبر دستی انقرہ ایر پورٹ پر اتارا اور پھر اس کی تلاشی لی ۔ اگر چہ دمشق اور ماسکو نے اس مسافر بردار طیارے کے ذریعے ہتھیار منتقل کئے جانے کے الزام کی تردید کی تاہم فریقین کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف شام میں ہتھیاروں کی منتقلی کے یہ الزامات، ایسی حالت میں عائد کئے جارہے ہیں کہ اس ملک میں بیرونی مداخلت سے نہ صرف یہ کہ شام کے بحران کے حل میں کوئی مدد نہیں ملی ہے بلکہ اس مداخلت سے بحران کی پیچیدگی میں مزید اضافہ بھی ہوا ہے ۔ مارچ سنہ 2011 سے، جب سے شام میں بحران شروع ہوا ہے مغرب اور اس کے علاقائی اتحادی ممالک،شام کے صدر بشار اسد کے مخالفین کے ساتھہ  ہر طرح کا تعاون کررہے ہیں اور یہ ممالک،شام میں تشّدد کا خاتمہ کرنے کیلئے سیاسی راہ حل آزمانے کے بجائے شروع سے ہی، اس بحران کا واحد حل،شام کے اقتدار سے بشار اسد کی علیحدگی قرار دیتے رہے ہیں ۔ مغربی ممالک، دمشق پر دباؤ بڑھانے کیلئے ابتک سلامتی کونسل میں تین قراردادیں بھی پیش کرچکے ہیں جو روس اور چین کی مخالفت کی بناء پر منظور نہیں ہوسکی ہیں ۔ یکطرفہ پابندیوں کا نفاذ اور شام کے حکومت مخالفین کی حمایت بھی ان اقدامات میں شامل ہیں جو امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں نے شام کا محاصرہ تنگ کرنے کیلئے انجام دیئے ہیں ۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ شام کے حوالے سے مغربی ملکوں کے یکطرفہ اقدامات سے اس ملک کا بحران حل کرنے سے متعلق کوششوں کو کافی نقصان پہنچا ہے ۔ چنانچے عید الاضحی کے موقع پر فائر بندی کا نفاذ اگر چہ ممکنہ طور پر شام کے بحران کے حل سے متعلق سیاسی عمل کے آغاز کیلئے کسی امید کا باعث بن سکتا ہے تاہم اس بات کو فراموش نہیں کیا جانا چاہیئے کہ شام کے حکومت مخالفین کے پاس امریکی ساخت کے میزائیلوں کی موجودگی سے فائر بندی جاری رکھنے اور شام میں امن کی بحالی میں ہرگز کوئی مدد نہیں ملے گی ۔...../169