ابنا: انھوں تئیس اکتوبر سن دوہزہار گیارہ کو ایک بیان میں شہرسرت میں قذافی کے ہلاک کئے جانے کے تین دن کے بعد کامیابی کی خوشیاں مناتے ہوئےلیبیا کے ہزاروں لوگوں کے اجتماع سے گفتگوکرتے ہوئے کہاتھا کہ آج لیبیا آزاد ہوگیا ہے آزادی کی خوشی مناؤ ۔ یہ بیان اس وقت لیبیا کے عوام کے لئے جو ڈکٹیٹر معمر قذافی سےنجات حاصل کرچکے تھے بہت ہی امید افزا اور افتخار آمیز تھا ۔ لوگوں کے ذہنوں میں امن وثبات ، آزادی اور آرام وسکون پر مبنی نئے لیبیا کاتصور تھا ۔اگر چہ قذافی جیسے ڈکٹیٹر حاکم کا خاتمہ جس نے بیالیس برس لوگوں پر استبداد ی حکومت کی اور لوگوں پر تشدد کیا تھا ایک بے مثال تاريخی واقعہ ہے ۔لیکن دیکھنا یہ ہے کہ کیا ایک برس گذرجانے کے بعد لوگوں کی امیدیں اورآرزوئیں پوری ہوئیں یانہیں؟ کیا لیبیا کے لوگ جس بہشت کا خواب دیکھ رہے تھے وہ پورے ہوئے اور نئے سیاسی نظام کی پہلی بنیادیں رکھی گئی یانہیں؟ لیبیا میں آنے والی حالیہ ایک سالہ تبدیلیوں پر ایک نظر ڈالنے سے اچھی طرح پتہ چلتاہے کہ ابھی لیبیاکو امن واستحکام تک پہنچنے میں کافی وقت لگے گا ۔کیونکہ ڈکٹیٹر قذافی کے سقوط کے بعد ایسے گروہوں نے سر اٹھالئے ہیں جو انقلاب کے اہداف پر چلنے کے بجائے نئے سیاسی نظام میں اپنا حصہ چاہتے ہیں۔ مختلف سیاسی گروہوں کے درمیان اقتدار کی جنگ کو دیکھتے ہوئے بعض علحیدگی پسند قبائل اس ملک کے مشرقی علاقےمیں برقہ اور اس ملک کے جنوب مشرقی علاقے میں بنی ولید میں خود مختاری کا اعلان کرنا چاہتے ہيں ۔شہر بنی ولید جو قذافی کے حامیوں کا آخری مرکز تھا، اس وقت قذافی کے حامیوں کی سرگرمیوں کے مرکز میں تبدیل ہوچکا ہے۔ کئی مہینوں سے بنی ولید شہر میں قذافی کے حامیوں اور لیبیا کی فوج کے درمیان جھڑپیں ہورہی ہیں۔ حتی کہاجاتاہے کہ اب بھی چھاپہ ماروں کی کمانڈ معدوم قذافی سے وابستہ فوجیوں کے ہاتھوں میں ہے ۔بنی ولید پر اب بھی حکومت کا مکمل کنٹرول نہيں ہے ، لیبیا کی قومی کانگریس کے سربراہ نے اعتراف کیا ہے کہ لیبیا ابھی مکمل طور پر آزاد نہيں ہوا ہے ۔یہ اعتراف ایک ایسے وقت کیا گیا ہے کہ جب لیبیا کے حکام بھی انقلاب کے بعد سے اب تک لوگوں سے ہتھیارواپس لینے میں نکام رہے ہیں ۔شاید لوگ ا بھی تک قانون کے پابند نہیں ہوپائے ہیں ۔اس میں کوئی شک نہیں کہ لیبیا کے قبائل اس ملک کی سماجی اور اجتماعی شکل کو خراب کرنے میںاہو کردار اداکرتے ہیں ۔لیکن فراموش نہيں کرنا چاہئیے کہ لیبیا کے لوگ بھی ملکی قوانین سے بالکل آشنا نہيں ہیں ۔قوانین سے لوگوں کی عدم آشنائی اور حکام کی ناتجربہ کاری کے نتیجہ میں لیبیامیں ابھی تک آئین تشکیل نہيں پایا ہے ۔ اس طرح لوگوں کے نئے لیبیا کے تصور کے برخلاف امن وسکون یا لوگوں کے عقیدے کے مطابق اس کے بہشت میں تبدیل ہونے کے لئے کافی وقت درکار ہے ۔ملک میں امن وثبات کے قیام کے لئے تمام قبائل اور سیاسی گروہوں کے درمیان باہمی تعاون اورہمدلی پیدا ہونے کی ضرورت ہے ۔ اس بات کے پیش نظر بہت سے سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر لیبیاکے حکام اس وقت ملک میں امن وسکون قائم کر نے میں کامیاب ہوگئے تو نیا لیبیا کا مستقبل روشن ہوگا اور لوگ اپنے ملک کے بارے میں پرامیدہوں گے۔...../169
24 اکتوبر 2012 - 20:30
News ID: 359475
لیبیا کی قومی عبوری کونسل کے نائب سربراہ عبدالحفیظ غوقہ کو بن غازی شہر کے ہزاروں لوگوں کے سامنے استقامت اور اس ملک کو آزاد کرنے کا اعلان کئے ہوئے ایک برس کا عرصہ ہورہا ہے ۔