اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق امریکہ نے B-61 ماڈل کے 70 جوہری بم ترکی میں واقع اپنے فوجی اڈے "انجرلیک" میں رکھے ہوئے ہیں۔ایک ترک نیوز ایجنسی "خبرتورک" نے اپنے خاص ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ تقریبا 70 امریکی جوہری بم صوبہ اضنہ کے علاقے انجرلیک میں واقع امریکی اڈے میں تعینات کئے گئے ہیں اور یہ تمام یا اکثر بم امریکی فوج سے تعلق رکھتے ہیں اور واشنگٹن نے ضرورت کے موقع پر انہیں استعمال کرنے کا حق اپنے لئے محفوظ کررکھا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق ترکی میں امریکی اڈوں کی تاریخ پرانی ہے اور "اکینجی" اور "بالیکسیر" کے امریکی اڈوں میں 1995 سے قبل 10 سے 20 تک جوہری بم موجود تھے جنہیں بعد امریکیوں نے انجرلیک منقل کئے ہیں۔ادھر خبرتورک نے مزید لکھا ہے: ترکی میں ایٹمی ہتھیاروں کی تعیناتی کا مقصد امریکی مفادات کا تحفظ ہے کیونکہ امریکہ علاقے (یعنی مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ کے مسلم علاقے میں) کسی بھی خطرناک لڑائی کی صورت میں ان بموں کو منظور نظر مقام پر منتقل کرسکتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ ان بموں کو کس طرح منتقل کیا جائے گا کیونکہ ترک حکومت کا دعوی ہے کہ اس نے امریکہ کو اپنی سرزمین میں ایٹم بم گرانے کی صلاحیت رکھنے والے امریکی طیاروں کی تعیناتی کی اجازت نہیں دی ہے!"۔ تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ ترکی کے پاس امریکی ساخت کے متعدد ایف سولہ طیارے موجود ہیں اور ان طیاروں میں ان ایٹم بموں کی منتقلی کی صلاحیت بھی ہے گوکہ عام طور پر یہ طیارے اس قسم کے ہتھیاروں کے لئے نہيں ہیں اور اگر امریکی ایٹم بموں کو ترک طیاروں کے ذریعے منتقلی کا کوئی منصوبہ ہو تو انہیں "خاص کاروائي" کے لئے خصوصی اجازت لینی پڑے گی اور اس قسم کی اجازت میں متعدد سیاسی اور قانونی رکاوٹیں پائی جاتی ہیں۔ قابل ذکر ہے کہ بی 61 ماڈل کے ایٹم بم امریکی تزویری افواج (Strategic Forces) کا بنیادی اور زیر استعمال ہتھیار ہیں جن کی لمبائی تین میٹر اور 58 سینٹی میٹر اور وزن 320 کلوگرام ہے جن کو 750 پونڈ وزن کے بموں کے سانچے میں نصب کیا جاتا ہے۔ترک عوام نے متعدد بار اپنی سرزمین میں ان خطرناک بموں کی موجودگی پر احتجاج کیا ہے لیکن نہ تو سابق "علمانی" حکومتوں نے عوامی مطالبات کو لائق توجہ سمجھا ہے اور نہ ہی موجودہ "اسلام پسند" حکومت کی طرف سے عوام کی خواہش کو مدنظر رکھنے کو ضروری سمجھا جارہا ہے بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ موجودہ "اسلام پسند اردوگانی" حکومت کے زمانے میں ہی ان بموں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔انجرلیک میں امریکی فوجی اڈا ترکی سے کے جنوب مشرق میں اسلامی جمہوریہ ایران سے 150 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور اس اڈے سے عراق اور افغانستان میں امریکی کاروائیوں نیز بحیرہ اسود اور قفقاز میں روس کی جاسوسی کے لئے استفادہ کیا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ 1995 سے قبل ترکی میں امریکی اڈوں کا مقصد سابق سوویت یونین کا مقابلہ کرنے کے لئے قائم تھے اور ان میں ایٹم بموں کی تعیناتی کا مقصد بھی یہی تھا لیکن ترکی اسلام پسندی کا دعوی کرتے ہوئے آج کس مقصد سے امریکہ کو اپنی سرزمین میں فوجی اڈے رکھنے اور ان میں ایٹم رکھنے کی اجازت دی ہے؟ کیا امریکہ کی اسرائیل سے دشمنی ہے؟ کیا امریکیوں نے یہ ایٹم بم پھر بھی روس کے لئے رکھے ہیں یا علاقے کے اسلامی ممالک کے لئے؟ کیا امریکہ کے سامنے اتنے انفعال اور تسلیم کی پالیسی "قائد عالم اسلام" کا ٹائٹل جیتنے کے لئے ضروری ہے؟۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
23 اکتوبر 2012 - 20:30
News ID: 359410
ترکی کے صوبہ اضنہ میں واقع امریکی فوجی اڈے "انجرلیک" میں بی - 61 ماڈل کے 70 امرکی جوہری بم رکھے گئے ہیں۔