21 اکتوبر 2012 - 20:30

محمد سرافراز نے کہا: ہاٹ برڈ سے ایرانی ریڈیو اور ٹیلی ویژن نشریات کی بندش ایک خلاف ورزی ہے اور یوٹیل سیٹ کمپنی کے اہلکاروں نے اب تک متضاد اور متنازعہ بیانات جاری کئے ہیں۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ ایران کے نشریاتی ادارے آئی آر آئی بی (Islamic Republic of Iran Broadcasting IRIB) کے ڈپٹی چئيرمین برائے بیرونی نشریاتی سروسز محمد سرافراز نے کہا کہ یوٹیل سیٹ کے ساتھ ہمارا معاہدہ 20 سال پرانا تھا جس کی ہر پانچ سے 10 سال کے کے بعد توسیع ہوتی رہی ہے اور اس معاہدے میں ابھی کافی مدت کافی تھی کہ یورپی یونین نے فنی نہیں بلکہ سیاسی وجوہات پر ہمارے ریڈیو اور ٹیلی ویژن کے 19 چینلز کی نشریات پر پابندی لگائی جس کے بعد ہم نے یوٹیل سیٹ والوں کے ساتھ متعدد بار ٹیلی فون پر بات چیت کی یا انہیں تحریری طور پر رپورٹس دی گئیں لیکن ان کی طرف سے کوئی جواب نہيں آیا اور چونکہ ہم اپنے سوالات کا حتمی جواب چاہتے ہیں چنانچہ ہم انہیں اپنے سوالات تحریری طور پر بھجوا رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ یوٹیل سیٹ والوں نے ابھی تک مختلف حیلوں بہانوں کا سہارا لیا ہے؛ یا جواب دینے سے پرہیز کررہے ہیں یا پھر پوری ذمہ دانی یورپی یونین پر ڈال رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ یوٹیل سیٹ کا ادارہ غیرقانونی اقدامات کا ارتکاب کرچکا ہے اور انھوں نے دوطرفہ معاہدے کو یکطرفہ طور پر منسوخ کیا ہے جبکہ اس معاہدے میں فریقین کی کچھ ذمہ داریاں ہیں جو انہیں نبھانی چاہئیں۔انھوں نے کہا: ایرانی چینلز متعدد سیٹلائٹس کے ذریعے اپنی نشریات کو جاری رکھے ہوئے ہیں اور سماجی نیٹ ورکس، موبائل سروس اور کیبل سروسز کے ذریعے ان چینلز کی نشریات دیکھی اور سنی جاسکتی ہیں۔سرافراز نے یوٹیل سیٹ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کے بارے میں کہا کہ چونکہ یہ واقعہ ابھی ابھی رونما ہوا اسی لئے شکایت نامہ تدوین نہیں ہوسکا ہے لیکن بین الاقوامی قانوندانوں اور وکلا سے مشاورت کے بعد ہم متعلقہ یورپی اداروں کے خلاف قانوی چارہ جوئی کا حق ضرور استعمال کریں گے۔

.....

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

یورپ میں ایرانی چینلز پر پابندی؛ کیا بیان کی آزادی ڈھونگ ہے