21 اکتوبر 2012 - 20:30

فرانس میں ولٹیر آزادی اظہار نیٹ ورک کے ایک ذمہ دار عہدیدار نے کہا کہ یوٹیل سیٹ سیٹلائٹ براڈکاسٹنگ کمپنی نے امریکہ اور صہیونی ریاست کے ارادے کے سامنے سرتسلیم خم کرکے، العالم کی نشریات کو بند کردیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ایلن بنجاما نے بدھ کے روز العالم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی ٹی وی نشریات کی بندش کو امریکہ، برطانیہ اور صہیونی ریاست کی سرکردگی میں عالمی سامراج، کے خلاف ایک بھاری اور شدید جنگ کے تناظر میں دینا چاہئے۔ 
انھوں نے کہا: یوٹیل سیٹ اور دوسری سیٹلائٹ کمپنیاں خودمختاری کی خصوصیت سے محروم ہیں اور امریکہ کے حکم پر اپنی پالیسیاں مرتب کرتی ہیں اور امریکی پالیسیوں سے اثر لیتی ہیں۔
انھوں نے کہا: آج کل ذرائع ابلاغ جنگی میکنزم میں تبدیل ہوچکے ہیں اور یہ حقیقت لیبیا اور شام میں سب سے زيادہ نماياں ہوئی۔ اس وقت ہمارا نیٹ ورک "ولٹیر نیٹ ورک (Vultyr réseau) بھی شام میں موجود ہے اور وہاں ذرا‏ئع ابلاغ توپخانے اور لڑاکا طیاروں کے ساتھ ساتھ، ابلاغی جنگ لڑ رہے ہیں۔
انھوں نے کہا: مغربی ذرائع ابلاغ اپنے ملکوں کے جاسوسی اداروں سے ڈکٹیشن لیتے ہیں اور ان کا مشن یہ ہے کہ رائے عامہ کے خلاف جنگ کے لئے راستہ ہموار کرنے کے لئے شیطانی کردار ادا کریں اور وہ اس سلسلے میں بین الاقوامی رسوم و قوانین کو پامال کردیتے ہیں اور اسی تسلسل میں ابلاغی معاہدوں کو بھی یکطرفہ طور پر منسوخ کیا جاتا ہے۔
ولٹیر ازادی اظہار نیٹ ورک کے اس عہدےدار نے کہا: وہ اپنے تمام تر وسائل کو بروئے کار لاتے ہیں تاکہ ذرائع ابلاغ کو اس اقدام کا جواب دینے سے باز رکھیں اور یہ عین منافقت ہے۔
انھوں نے کہا: مغرب کبھی بھی جمہوریت اور آزادی اظہار کا تحفظ نہیں کرتا اور جو بھی امریکہ اور اسرائیل پر تنقید کرے وہ اپنا پیغام لوگوں تک پہنچانے کے امکان سے محروم ہوجاتا ہے اور فرانس اور دوسرے مغربی ممالک میں اس کو شیطان کے طور پر متعارف کرایا جاتا ہے اور اس پر نازیت (Nazism) یہ یہودیت کے خلاف جنگ جیسے الزامات لگائے جاتے ہیں۔
انھوں نے مشورہ دیا کہ  ایران کو  اپنا ملکی سیٹلائٹ خلا میں تعینات کرنا چاہئے کیونکہ ایران کو امریکہ، صہیونی ریاست اور ان کے حلیف ممالک کی ہمہ جہت یلغار کا سامنا ہے اسی بنا پر ایرانی نشریاتی ادارے اپنا موقف دنیا تک نہیں پہنچا سکتا کیونکہ سیٹلائٹس ایسے سرمایہ داروں کی ملکیت ہیں جو ایران کے دشمن ممالک سے وابستہ ہیں۔
انھوں نے کہا: غاصب صہیونی ریاست کے خلاف ایران کا موقف اس ملک کے خلاف ابلاغی، تشہیری اور معاشی جنگ کا سبب ہے۔
انھوں نے کہا کہ ولٹیر کے سربراہ ٹیری میسن کو فرانس میں جان کا خطرہ لاحق ہوا تھا چنانچہ ان کو اپنی جان بچانے کے لئے دمشق میں رہائش اختیار کرنی پڑی ہے اور ان کی اس پناہ گزینی کا سبب یہ تھا کہ چونکہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے خلاف تنقیدی رائے رکھتے ہیں۔

.....

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

یورپ میں ایرانی چینلز پر پابندی؛ کیا بیان کی آزادی ڈھونگ ہے