ابنا: انہوں نے کہا کہ امریکہ اور مغربی ملکوں نے اپنے ناجائز مفادات حاصل کرنے کے لئے ایران پر پابندیاں لگائي ہیں۔ عشرت عزیز نے دھلی میں ارنا سے گفتگو میں کہاکہ صرف ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی کی رپورٹ پر ہی اقوام متحدہ کسی ملک پر پابندیاں لگاسکتی ہے اور ایران کے بارے میں آئي اے ای اے نے کوئي ایسی رپورٹ نہیں دی ہے۔ سعودی عرب میں ہندوستان کے اس سابق سفیر اور مشرق وسطی کے امور کے ماہر نے کہا کہ ایران نے این پی ٹی معاہدے پر دستخط کئے ہیں اور اس معاہدے کے مطابق یہ ایران کا حق بنتا ہےکہ وہ پرامن مقاصد کے لئے ایٹمی انرجی سے استفادہ کرے اس کے علاوہ ایٹمی انرجی کی عالمی ایجنسی نے اب تک ایسی کوئي رپورٹ نہیں دی ہے جس سے معلوم ہوتا ہو کہ ایران اپنے ایٹمی پروگرام سے فوجی مقصد رکھتا ہو۔ عشرت عزیز نے کہاکہ امریکہ اور یورپی یونین نے اپنی خارجہ پالیسی کے اھداف حاصل کرنے کےلئے ایران پر پابندیاں لگائي ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ نے اب تک ایران پر پابندیاں نہیں لگائي ہیں اور امریکہ و یورپی یونین نے اپنے مقاصد کے تحت ایران پر پابندیاں لگائي ہیں انہوں نے کہا کہ یہ پابندیاں یکطرفہ ہیں۔ ہندوستان کے اس کہنہ مشق سفارتکار نے غیر قانونی پابندیوں کے بارے میں رہبرانقلاب اسلامی کے بیانات کی طرف اشارہ کرتےہوئے کہا کہ رہبرانقلاب اسلامی کا موقف نہایت دانشمندانہ اور صریح ہے کیونکہ ا مریکہ اور مغربی ملکوں کی غیر قانونی پابندیاں ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام سے متعلق نہیں ہوسکتیں کیونکہ یہ پابندیاں یکطرفہ ہیں اور عالمی اداروں نے یہ پابندیاں نہیں لگائي ہیں اور نہ اقوام متحدہ ان میں دخیل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کا ایٹمی معاملہ صرف مذاکرات اور ماہرین کے ذریعے حل ہوسکتا ہے۔
.....
/169