اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی مفتی سینما اور فلم کو غیر شرعی اور اسلامی تعلیمات کے خلاف سمجھتے ہیں۔Red Candle
گارڈین اخبار نے "سرخ شمع" (Red Candle) گروپ کے بارے میں انجام پانے والی تحقیق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رپورٹ دی ہے کہ بلادالحرمین میں سینما نہ ہونے کی وجہ سے اس گروپ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی پسند کی فلمیں دیکھنے کے لئے "ابہا" شہر کے ایک خاص محلے میں رجوع کریں۔
گارڈین نے لکھا ہے کہ چونکہ بلادالحرمین میں سینما ممنوع ہے اسی وجہ سے سینما اور فلم سازی کے شعبے میں سرگرم ساٹھ افراد کا ایک گروپ اپنی فلمیں خفیہ طور پر دکھا رہا ہے اور ایک دوسرے کو بھی اور شائقین کو بھی ایس ایم ایس پیغامات کے ذریعے نئی فلموں سے آگاہ کرتے ہیں۔
گارڈين نے لکھا ہے کہ گذشتہ جمعرات کو ساٹھ افراد نماز عشاء ادا کرنے کے بعد خفیہ طور پر فلم دیکھنے کے لئے ایک گودام میں اکٹھے ہوئے اور ساٹھ افراد کے اس گروپ کے رکن نے ـ جو فلم ڈائریکٹر بھی ہے ـ گارڈین کو بتایا: ہم بہت زيادہ فکرمند تھے اسی وجہ سے ہم نے اپنی گاڑیاں مذکورہ گودام سے بہت دور کہیں کھڑا کیا۔ ہم سب کے خوف اور تشویش کا سبب وہ صورت حال تھی جس سے گرفتاری کی صورت میں، ہمیں دوچار ہونا پڑ سکتا تھا۔
اس فلم ڈائریکٹر نے فلم کی کہانی کے بارے میں کچھ بتائے بغیر کہا کہ اس فلم میں اسلامی تعلیمات کے خلاف کوئی بھی منظر نہيں تھا اور اگلی فلم حقوق نسوان اور اگلی فلم "سیاہ جادو" کے بارے میں ہوگی۔
آل سعود نے 1970 کے عشرے سے سینما کو بلادالحرمین میں مکمل طور پر منع کردیا اور جب فیصل بن عبدالعزیز نے ملک میں ٹیلی ویژن کی درآمد کی اجازت دی تو انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
واضح رہے کہ سعودی عرب میں پچھلے وقتوں میں وی سی آر کے ذریعے فلموں کی پیاس بجھائی جاتی رہی اور پھر ڈش انٹینا کے ذریعے اس پیاس کا جواب فراہم کیا جاتا رہا اور آج کل سعودی خاندان کے ولید بن طلال بن عبدالعزيز کے متعدد چینلز کے ذریعے مختلف قسم کی ممنوعہ اور غیرممنوعہ فلمیں نشر کی جارہی ہیں جبکہ دوسرے عالمی چینلز اور انٹرنیٹ تک بھی رسائی حاصل ہے چنانچہ اس سینما گروپ کی فعالیت بہت زيادہ نئی بھی نہيں ہے۔
.....
/169-110
تفصیل کے لئے رجوع کیجئے: