15 اکتوبر 2012 - 20:30

عبدالعزيز ملٹری کالج میں دھماکے سے ایک کیڈٹ ہلاک اور متعدد زخمی / سعودی عرب میں غیر ملکی کارکنوں کے بھیس میں "غلامی کا دور جاری" / سعودی عرب میں میں خفیہ سینما / سعودی جیل میں مصری خاتون کو 500 کوڑوں کی سزا / سعودی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی دھرنا، مصری اسیروں کی رہائی کا مطالبہ۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی اخبار الریاض نے لکھا ہے کہ دارالحکومت میں واقع عبدالعزیز ملٹری کالج میں ایک ہینڈ گرینیڈ کے دھماکے سے ایک کیڈٹ ہلاک اور نو افراد زخمی ہوگئے ہیں جن میں سے ایک کی حالت نازک بتائی گئی ہے جبکہ کویتی اخبار القبس نے کی رپورٹ کے مطابق اس دھماکے میں درجنوں افراد زخمی ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق ملک عبدالعزیز ملٹری کالج میں دستی بم کا دھماکہ آج صبح 11:15 بجے ہوا جبکہ کیڈٹس معمول کی مشقوں میں مصروف تھے جس کے بعد تحقیقات کے لئے ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ بریکنگ نیوز نامی ویب سائٹ کی اطلاع کے مطابق یہ دھماکہ ریاض کے نواح میں العیینہ کے علاقے میں ملک عبدالعزیز ملٹری کالج میں ہوا جس میں ایک کیڈٹ ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے جبکہ سعودی ویب سائٹ الایلاف نے لکھا کہ یہ دھماکہ تربیت کے دوران ہوا اور ادھر چینی خبرایجنسی شین ہوا نے اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا ہے کہ زخمیوں میں سے ایک کی حالت نازک ہے۔ سعودی وزارت دفاع نے ابھی تک اس سلسلے میں کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے تاہم ایلاف نے لکھا ہے کہ کالج کے حکام نے حکم دیا تھا کہ آفیسرز ٹریننگ میں بروئے کار لائے جانے والے تمام ہتھیاروں کو مشقوں میں آزمایا جانا چاہئے۔

اخبار الوسط بحرین نے لکھا ہے کہ اس دھماکے میں 32 افراد زخمی ہوئے ہیں جن میں آٹھ افراد کی حالت نازک ہے۔ مذکورہ بالا آراء و خیالات کے باوجود اس دھماکے کی نوعیت اور کے نتیجے میں ہلاکتوں کے بارے میں کچھ بھی یقین سے کہنا قبل از وقت ہے کیونکہ اس واقعے کے بارے میں کوئی مفصل رپورٹ سعودی سینسر کی وجہ سے منظر عام پر لانا ممکن نہیں ہے۔

مذکورہ بالا آراء و خیالات کے باوجود اس دھماکے کی نوعیت اور کے نتیجے میں ہلاکتوں کے بارے میں کچھ بھی یقین سے کہنا قبل از وقت ہے کیونکہ اس واقعے کے بارے میں کوئی مفصل رپورٹ سعودی سینسر کی وجہ سے منظر عام پر لانا ممکن نہیں ہے۔ سعودی عرب میں غیر ملکی کارکنوں کے بھیس میں "غلامی کا دور جاری"بلادالحرمین میں آل سعود کی طرف سے غیرملکی کارکنوں اور مزدوروں کے لئے شدید مالیاتی ضوابط اور سخت قوانین اور تحفظ روزگار حتی کہ جانی تحفظ کا فقدان بیرونی کارکنوں کے لئے عجیب صورت حال کا سبب بنا ہے اور بیرونی کارکنوں کو روزگار کی فراہمی کی بجائے انہيں نئے دور کی غلامی میں پھنسا دیا جاتا ہے۔ اطلاعات کے مطابق القدس العربی نے سعودی بادشاہت کے زیر تسلط سرزمین مقدس میں بیرونی مزدوروں کے خلاف نسلی امتیازی رویوں کے بارے میں اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ سعودی عرب کی مشاورتی کونسل (مجلس شوری یا نام نہاد پارلیمان) ـ جس کے اراکین عوامی انتخاب کی بجا‏ئے آل سعود کی طرف سے تعینات کئے جاتے ہیں ـ نے حال ہی میں ایک تجویز پر غور کرنا شروع کیا ہے جس کی رو سے غیرملکی مزدوروں سے مزید سالانہ ٹیکسز لینے کا منصوبہ ہے حالانکہ یہ تجویز پانچ ماہ قبل مسترد کی گئی تھی چنانچہ کہا جاتا ہے کہ اس بار بھی حکومت نے یہ تجویز شاہی مجلس شوری میں بھجوائی ہے ورنہ سعودی عرب کے عوام کے لئے اس سے زیادہ اور اہم مسائل بھی ہیں جن پر غور نہیں کیا جاتا؛ جیسے مساوات اور خودمختار عدلیہ کا قیام، آل سعود کے سینئر اعضائے خاندان کی طرف سے سرکاری حتی نجی زمینوں کو غصب کئے جانے اور عوامی اموال و املاک کی لوٹ مار کا سلسلہ روکنا وغیرہ۔بین الاقوامی لیبر آرگنائزیشن (International Labour Organization) کے سینئر امیگریشن اسپیشلسٹ اظفرخان نے سعودی اخبار "الاقتصادیہ" کے انٹرویو دیتے ہوئے کہا: تمام ممالک میں اندرونی مزدوروں کے لئے وضع شدہ قوانین کو غیرملکی مزدورں کے لئے بھی نافذ ہونا چاہئے اور اس سلسلے میں بیرونی مزدوروں کے لئے حکومتوں کی مالی ضمانتیں وہی ہونی چاہئیں جو ملکی مزدوروں کو دی جاتی ہیں۔ القدس العربی نے لکھا ہے: اظفرخان درحقیقت کہنا چاہتے ہیں کہ سعودی عرب میں صرف غیرملکی مزدوروں سے ٹیکس کی وصولی نسلی امتیاز کے زمرے میں آتی ہے اور بین الاقوامی لیبر قوانین نیز انسانی حقوق کے منشور، اس رویے کو مسترد کرتے ہیں؛ چنانچہ اگر سعودی حکمرانوں کا ارادہ یہ ہے کہ وہ انکم ٹیکس نافذ کریں تو اس کو مساوی طور پر ملکی اور غیر ملکی کارکنوں اور مزدوروں پر لاگو کرنا پڑے گا اور امتیازی سلوک کے تمام خدشات دور کرنے پڑیں گے۔ القدس العربی نے واضح کیا ہے کہ غیرملکی مزدوروں اور کارکنوں کو مفت علاج معالجے کی سہولتیں میسر نہيں ہیں اور ان کے بچوں کو سعودی اسکولوں میں داخلہ دینا ممنوع ہے حالانکہ ان بچوں میں سے اکثریت کا تعلق مسلم اور عرب ممالک سے ہے؛ اور یہ صورت حال خلیج فارس کی اکثر عرب ریاستوں میں پائی جاتی ہے اور علاوہ ازیں ان ریاستوں کے حکمرانوں نے ان کے ویزے کی تجدید پر بھاری ٹیکسز لاگو کررکھے ہیں اور انہیں ملک سے خروج اور دوبارہ دخول پر بھی بھاری رقوم ادا کرنی پڑتی ہیں جن میں ٹیکسز بھی شامل ہیں۔ القدس العربی نے آخر میں حیرت کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے: آج عرب ممالک میں انقلابات کا دور ہے، عرب عوام پہلی بار اپنے مطالبات پیش کرنے کا عزم کئے ہوئے ہیں جن میں عدل و انصاف اور انسانی حقوق کا تحفظ شامل ہیں لیکن اس کے باوجود آل سعود کی طرف سے نسل پرستانہ مسائل پر زور دینا، بہت حیران کن ہے!۔

سعودی عرب میں میں خفیہ سینماسعودی سلطنت میں فیچر فلم بنانا اور سینما تعمیر کرنا، ممنوع ہے جس کی وجہ سے ساتویں فن کے شائقین، فلم ساز وغیرہ خفیہ طور پر فلمیں بناتے ہیں اور انھیں خفیہ انداز سے پورے ملک تک پہنچا دیتے ہیں سینمای زیرزمینی در عربستاناطلاعات کے مطابق سعودی مفتی سینما اور فلم کو غیر شرعی اور اسلامی تعلیمات کے خلاف سمجھتے ہیں۔Red Candleگارڈین اخبار نے "سرخ شمع" (Red Candle) گروپ کے بارے میں انجام پانے والی تحقیق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رپورٹ دی ہے کہ بلادالحرمین میں سینما نہ ہونے کی وجہ سے اس گروپ نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنی پسند کی فلمیں دیکھنے کے لئے "ابہا" شہر کے ایک خاص محلے میں رجوع کریں۔گارڈین نے لکھا ہے کہ چونکہ بلادالحرمین میں سینما ممنوع ہے اسی وجہ سے سینما اور فلم سازی کے شعبے میں سرگرم ساٹھ افراد کا ایک گروپ اپنی فلمیں خفیہ طور پر دکھا رہا ہے اور ایک دوسرے کو بھی اور شائقین کو بھی ایس ایم ایس پیغامات کے ذریعے نئی فلموں سے آگاہ کرتے ہیں۔ گارڈين نے لکھا ہے کہ گذشتہ جمعرات کو ساٹھ افراد نماز عشاء ادا کرنے کے بعد خفیہ طور پر فلم دیکھنے کے لئے ایک گودام میں اکٹھے ہوئے اور ساٹھ افراد کے اس گروپ کے رکن نے ـ جو فلم ڈائریکٹر بھی ہے ـ گارڈین کو بتایا: ہم بہت زيادہ فکرمند تھے اسی وجہ سے ہم نے اپنی گاڑیاں مذکورہ گودام سے بہت دور کہیں کھڑا کیا۔ ہم سب کے خوف اور تشویش کا سبب وہ صورت حال تھی جس سے گرفتاری کی صورت میں، ہمیں دوچار ہونا پڑ سکتا تھا۔ اس فلم ڈائریکٹر نے فلم کی کہانی کے بارے میں کچھ بتائے بغیر کہا کہ اس فلم میں اسلامی تعلیمات کے خلاف کوئی بھی منظر نہيں تھا اور اگلی فلم حقوق نسوان اور اگلی فلم "سیاہ جادو" کے بارے میں ہوگی۔ آل سعود نے 1970 کے عشرے سے سینما کو بلادالحرمین میں مکمل طور پر منع کردیا اور جب فیصل بن عبدالعزیز نے ملک میں ٹیلی ویژن کی درآمد کی اجازت دی تو انہیں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔واضح رہے کہ سعودی عرب میں پچھلے وقتوں میں وی سی آر کے ذریعے فلموں کی پیاس بجھائی جاتی رہی اور پھر ڈش انٹینا کے ذریعے اس پیاس کا جواب فراہم کیا جاتا رہا اور آج کل سعودی خاندان کے ولید بن طلال بن عبدالعزيز کے متعدد چینلز کے ذریعے مختلف قسم کی ممنوعہ اور غیرممنوعہ فلمیں نشر کی جارہی ہیں جبکہ دوسرے عالمی چینلز اور انٹرنیٹ تک بھی رسائی حاصل ہے چنانچہ اس سینما گروپ کی فعالیت بہت زيادہ نئی بھی نہيں ہے۔

سعودی جیل میں مصری خاتون کو 500 کوڑوں کی سزامصری تاجر خاتون "نجلاء وفا" کی سلامتی مزيد پچاس کوڑوں کی سزا پانے کے بعد خطرے میں پڑ گئی ہے۔اطلاعات کے مطابق سعودی عرب میں مصری قیدیوں کے کوارڈینیٹر نے العالم کو بتایا کہ سعودی شہزادے کے ساتھ تجارتی امور میں اختلاف کے باعث قید ہونے والی مصری تاجر خاتون کو حال ہی میں 50 کوڑے لگائے گئے ہیں جن کی وجہ سے ان کی صحت خطرے میں پڑگئی ہے۔انھوں نے کہا کہ سعودی عدالت نے نجلاء وفا کو 500 کوڑوں کی غیر شرعی اور غیرانسانی سزا سنائی تھی جن میں سے ان کو اب تک 400 کوڑے مارے گئے ہیں۔انھوں نے کہا کہ وفا کی نفسیاتی اور جسمانی حالت افسوسناک حد تک نازک ہے لیکن اس کے باوجود آل سعود کے مظالم اور مصری حکومت کی بے رخی پر احتجاج کے طور پر اپنی بھوک ہڑتال بدستور جاری رکھی ہوئی ہيں۔واضح رہے کہ نجلاء وفاء ایک سعودی شہزادے کے ساتھ شراکت کے طور پر تجارتی سرگرمیوں میں مصروف عمل تھیں لیکن ان کے درمیان اختلافات نمودار ہوئے جس کے باعث سعودی عدالت نے ان کو گرفتار کرکے انہیں تین سال قید اور 500 کوڑوں کی سزا سنائی۔قاہرہ: سعودی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی دھرنا، مصری اسیروں کی رہائی کا مطالبہآل سعود کے ہاتھوں میں اسیر مصری باشندوں کے اہل خانہ اور مصری قانون دانوں اور سیاسی و سماجی کارکنوں کا جنوبی قاہرہ میں سعودی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی دھرنا، دھرنے کے شرکاء نے سعودی حکومت سے مصری اسیروں کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق پیر کی شام کو اسیر مصری باشندوں کے اہل خانہ اور مصری قانون دانوں اور سیاسی و سماجی کارکنوں نے جنوبی قاہرہ میں سعودی سفارتخانے کے سامنے احتجاجی دھرنا دے کر سعودی حکومت کے خلاف زبردست نعرے بازی کی۔ وہ نعرے لگارہے تھے کہ "دین اور عدل کیا ہے؟"، "ہمارے فرزند کعبہ کے قریب اسیر ہیں"، "ہم نے اپنے ملک میں تمہیں احترام دیا اور تم نے ہمارے احسان کا جواب ہمارے بچوں کو کوڑے مار کر دیا"، "مرسی ہماری مدد کو پہنچو"، "ہمارے غریب الوطن غم و اندوہ کی وجہ سے آہیں بھررہے ہیں"...آل سعود کے اذیتکدوں میں پابندسلاسل مصری وکیل و سماجی کارکن احمدالجیزاوی کے اہل خانہ نیز آل سعود کی عدالتوں سے 500 کوڑوں اور 3 سال قید کی سزا پانے والی نجلاء وفاء کے اہل خانہ بھی اس دھرنے میں موجود تھے۔ احمد الجیزاوی ایک سال قبل اپنی اہلیہ اور بعض مصری زائرین کے ہمراہ آل سعود کے ہاتھوں گرفتار ہوئے ہیں۔ مصر میں 25 جنوری کا انقلاب ہونے کے بعد احمد الجیزاوی نے سعودی جیلوں میں اسیر بے شماری مصری قیدیوں کی رہائی کے لئے اپنی کوششوں کا آغاز کیا اور ظالمانہ و غیرانسانی رویوں کے حوالے سے سعودی حکمرانوں ـ خاص طور پر بادشاہ عبداللہ بن عبدالعزیز ـ پر شدید الفاظ میں تنقید کی۔ آل سعود کے گماشتوں نے انہيں اسی بنیاد پر گرفتار کیا اور پھر کئی ہفتوں تک ان کی گرفتاری کا جواز پیش کرنے سے عاجز رہے لیکن پھر اچانک ان کی بولتی بول اٹھی اور اعلان کیا کہ "الجیزاوی سے منشیات کی