14 اکتوبر 2012 - 20:30

سابق ولیعہد سلطان بن عبدالعزیز کی موت کے بعد بیعت بورڈ کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور اگلے ولیعہد نائف کی موت کے بعد بیعت بورڈ کو بائی پاس کرکے سلمان کو ولیعہد بنایا گیا جس کے بعد اس بورڈ کی حیثیت ختم ہوگئی اور کوئی بھی آج بیعت بورڈ کو اہمیت نہیں دیتا۔

ابنا: حالانکہ آل سعود کے پاس اپنے مسائل سیدھے کرنے کے لئے بیعت بورڈ کے سوا کوئی بھی دوسرا اوزار نہیں ہے؛ نیز اس خاندان کے پاس کوئی بھی قوی اور مدیر و مدبر شخص نہيں ہے جو بادشاہت اور ولیعہدی جیسے اہم مسائل کو حل کرسکے۔ آل سعود خاندان کے ذمہ دار افراد ملک کے مسائل ـ حتی کہ معاشرتی مسائل ـ کے بارے میں کسی قسم کی مفاہمت کی خاطر کسی قسم کا کوئی اجلاس منعقد نہيں کرتے اور اس سلسلے میں طلال کا تجربہ بری طرح ناکام ہوچکا ہے۔ ولیعہد سلمان بن عبدالعزيز بھی الزہائمر کے شکار ہیںسعودی بادشاہ ذہنی طور پر اپنی صحت کے مسائل میں مصروف ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ ان کے ولیعہد الزہائمر میں مبتلا ہیں لیکن اس کے باوجود وہ اس طرف توجہ نہيں کررہے ہیں۔ عبداللہ بن عبدالعزيز اپنے بعد آنے والے حالات پر غور کرنے کو گویا جائز ہی نہيں سمجھتے۔

.....

/169

تفصیل کے لئے رجوع کیجئے:

گھر کے بھیدی کے انکشافات: سعودی بادشاہ کی عمر 94 سال ہے/ ولیعہد الزہائمر میں مبتلا ہیں